غير الھی اخلاق پائيدار نہیں ہے

IQNA

غير الھی اخلاق پائيدار نہیں ہے

14:52 - November 16, 2009
خبر کا کوڈ: 1849942
فن وثقافت گروپ: اگر اخلاق غير الہی اور لوگوں كے آداب و رسوم اور ثقافت و عادت سے ليا گيا ہو تو وہ ذاتی اور شخصی سليقہ ہے اور پائيدار اور جاويد نہیں ہے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے دارالحديث سائٹ كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ آيت اللہ العظمی جوادی آملی نے طلباء كے اجتماع میں مسئلہ اخلاق كی اہميت كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ مسئلہ اخلاقی كی اہميت یہ ہے كہ اگر كوئی اخلاق الہی سے آراستہ نہ ہو تو وہ اخلاص كے جس مرتبہ پر فائز ہو اس كے لیے خطرے كے احتمال موجود ہے۔
انہوں نے كہا كہ جو لوگ اخلاق الہی سے آراستہ نہیں تھے البتہ علمی اور غيرعلمی سرمایہ كے مالك تھے وہ ہميشہ كے لیے ہلاك ہو گئے ہیں۔ انہوں نے كہا كہ خداوند متعال بعض ايسے افراد كو نبوت اور امامت جيسا مقام عطا كرتا ہے جن سے آگاہ ہے كہ وہ كبھی بھی منحرف نہیں ہوں گے ليكن جن افراد كو امتحان كے طور نعمات عطا كرتا ہے بعد میں معلوم ہوتا ہے كہ وہ ان نعمتوں كے لائق نہیں تھے۔ قم كے عارضی امام جمعہ نے كہا كہ بعض خيال كرتے ہیں كہ اخلاق قابل برہان نہیں ہے جبكہ اخلاق الہی اور اسلامی قابل برہان ہے۔ قرآن كر مركزی عنصر شناخت معرفت كا يقين ہے نہ يقين نفسيات اور جہان پر بھی شناخت معرفت كا يقين ہو وہاں پر برہان موجود ہوتی ہے۔ انہوں نے كہا كہ ائمہ معصومين(ع) كا نورانی بيان ہمارے لیے بہت عميق اور پيچييدہ ہے كہ ہم اس پر يقين منطقی ركھتے ہیں۔ آيت اللہ جوادی آملی نے مزيد كہا كہ عام لوگوں كے آداب ورسوم اور ثقافت سے حاصل ہونے والا اخلاق، اخلاق نہیں ہے بلكہ سليقہ ہے اور اگر اخلاق، نظام كائنات، انسانی تشخص اور انسان اور كائنات كے مستحكم ارتباط سے پيدا ہو تو وہ علم اور برہانی ہے۔
493256
نظرات بینندگان
captcha