قديمی قرآنی مدرسے، كينيا كے اسلامی نظام تعليم كی اساس ہیں

IQNA

قديمی قرآنی مدرسے، كينيا كے اسلامی نظام تعليم كی اساس ہیں

12:57 - December 09, 2009
خبر کا کوڈ: 1858799
بين الاقوامی گروپ: كينيا كے "واجير" نامی قرآنی سكول كے ٹيچر "نور عثمان" نے قديمی قرآنی مدرسوں اور سكولوں میں حفظ اور قرائت قرآن كريم كے تعليمی كورسز كے انعقاد كو اس ملك كے اسلامی نظام تعليم كی اساس قرار ديا ہے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے "آن لائن" سائٹ كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ نور عثمان نے اس نيوز سائٹ سے گفتگو كرتے ہوئے كہا ہے كہ سواحيلی زبان میں ان قديمی قرآنی مدرسوں كو "الدوكس" كہا جاتا ہے جو كينيا كی اكثر مساجد میں موجود ہیں ليكن شمالی مشرقی كينيا میں انہیں بہت زيادہ پذيرائی ملی ہے۔
انہوں نے مزيد كہا كہ قرآن كريم اور اسلامی احكام كی تعليم كا یہ نظام، پيغمبر اكرم(ص) كے زمانے سے جا ملتا ہے اور اس نظام نے مسلمان جوانوں كو اس آسمانی كتاب كی طرف راغب كرنے كے لیے بہت اہم كردار ادا كيا ہے۔
نور عثمان نے مزيد كہا كہ ان قديمی مكتب خانوں میں قرآنی تعليم حاصل كرنے والے بچے تين سال كے كم عرصے میں مكمل قرآن حفظ كر ليتے ہیں اور حفظ قرآن كے علاوہ یہ بچے اسلامی معارف سے بھی آگاہ ہوتے ہیں۔
505497

نظرات بینندگان
captcha