بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے مصری روزنامہ "اليوم السابع" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ جرمنی كے شناخت آثار قديمہ انسٹیٹيوٹ كے تعاون اور اسوان میں اسلامی قبرستان كی موجودگی كے شواہد كا جائزہ لينے كے عنوان سے ايك سيمينار منعقد ہوا ہے۔
جس كے شركاء نے صوبہ اسوان كے فاطمی گنبدوں اور اسلامی قبرستان كی موجودہ شواہد كی نمائش لگانے كا مطالبہ كيا ہے۔
اسوان كے اسلامی آثار كے سيكرٹری جنرل "محمدی عابدين" نے اس بارے میں كہا ہے كہ صوبہ اسوان میں فاطمی گنبدوں اور اسلامی قبرستان كے شواہد كے تقريباً ۱۰۱۶ ٹكڑے موجود ہیں جن میں ۶۴۳ ٹكڑوں كا تعلق تيسری اور چھٹی صدی ہجری سے ہے۔
540176