۱۔ تفرقہ كو دور كرنے كے لئے تعاون اور امور اصلاح میں ہماہنگی
۲۔ مشتركہ اور متفقہ مسائل پر توجہ اور ايك دوسرے سے درگزر كرنا۔
۳۔ اصلی اور فرعی مسائل كے درميان فرق ركھنا۔
۴۔ ملتوں كی مشكلات اور بحرانوں پر توجہ۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق ملائيشيا كی حزب اسلامی كے سربراہ "عبدالہادی آونگ" نے وحدت اسلامی كانفرنس میں كہا ہے كہ ہم ايك دوسرے كے ايمانی بھائی ہين اور قومی تعصبات اور سرزمينوں كی حد بندی اور قوميت سے ہٹ كر بھی مسلمانوں كے اندر اسلامی تشخص پايا جاتا ہے اور عالم اسلام میں اسلامی بيداری پائی جانی اور رسول اكرم(ص) كے توسط سے مسلمانوں كا سنہری دور شروع ہوا۔
انہوں نے مزيد كہا كہ اس وقت دين كی ترويج اور دشمنوں كے مظالم كی مذمت كرنے كے لئے ايك پلیٹ فارم كی تشكيل ضروری ہے۔
امت اسلام كے اندر بھی ہماری اولادوں كو خطرات كا سامنا ہے اور استعمار اپنے پروگراموں اور سازشوں كو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔
مسجد الاقصی اور اس كے عوام كو شديد خطرہ ہے ہم انہیں كہتے ہیں كہ تم حق پر ہو اور اپنی مقاومت كو جاری ركھو، ظالموں كو جان لينا چاہیے كہ امت اسلام نے وحدت كا راستہ اپنا ليا ہے۔
انہوں نے آخر میں كہا كہ دينی قائدين اور دانشوروں كے مابين مسائل كے حل كے لئے چند نكات كی طرف توجہ ضروری ہے۔
۱۔ تفرقہ كو دور كرنے كے لئے تعاون اور امور كی اصلاح میں ہماہنگی۔
۲۔ مشتركہ اور متفقہ مسائل پر توجہ اور ايك دوسرے سے درگزر كرنا۔
۳۔ اصلی اور فرعی مسائل كے درميان فرق ركھنا۔
۴۔ ملتوں كی مشكلات اور بحرانوں پر توجہ۔
546861