استنبول میں ايرانی قونصل خانے سے وابستہ ثقافتی امور كے ايك عہديدار محمود صدقی زادہ نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" سے بات چيت كرتے ہوئے كہا كہ انقلاب كے دشمنوں نے حالیہ سالوں میں فوجی جنگ میں ناكامی كے بعد سرد اور ثقافتی جنگ كو شروع كر ركھا ہے لہذا جس طرح فوجی جنگ كا مقابلہ فوجی جنگ ہے اسی طرح ثقافتی جنگ كا مقابلہ بھی ثقافتی رد عمل ہے اور ان حالات میں ايران كے اندر اور باہر موجود ثقافتی نمائندوں كی ذمہ داری بنتی ہے كہ وہ ملك كی ثقافتی حدود كے تحفظ كے لئے، اسلام كی ثقافت كو فروغ دیں۔
انہوں نے مزيد كہا كہ عالمی استكبار اور مغربی ممالك بھی اسلامی انقلاب كے انسانی پيغام كا مقابلہ كرنے كے لئے اقدامات كر رہےہیں اور وہ روزانہ اسلامی انقلاب اور ايران كے خلاف منفی پروپيگنڈے كر رہے ہیں لہذا اس صورت حال میں اسلامی جمہوریہ ايرانی كے ثقافتی نمائندوں اور عہديداروں كے كندھوں پربہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے لہذا ان كے لئے لازمی ہے كہ وہ انقلاب كی حقيقی ماہيت كو واضح كرنے كے لئے بہت زيادہ كوششیں كریں اور اس سلسلے میں ايرانی كے ديگر اداروں، آرگنائزيشنز اور میڈيا كے تعاون كی بھی اشد ضرورت ہے۔
550366