آسٹريليا كے سابقہ مفتی "تاج الدين حامد عبداللہ الھلالی" نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" سے بات چيت كرتے ہوئے كہا كہ اہل بيت(ع) قرآن كريم سے جدا نہیں ہیں اور مسلمانوں كے درميان محبت اہل بيت(ع) كی ثقافت كی ترويج كے ذريعے ان كے درميان موجود اختلافات كو ختم كيا جا سكتا ہے اور اس ثقافت كی عدم موجودگی، مسلمانوں كی ذلت اور خواری كا باعث ہے۔
انہوں نے مزيد كہا كہ مكتب اہل بيت(ع) كا تفكر بيدار كرنے والا تفكر ہے جو ارادہ كو بيدار اور شہادت كی ثقافت كو زندہ ركھتا ہے۔
انہوں نے كہا كہ بعض عربی ممالك كے حكمران، مقاومت كی ثقافت كی ترويج اور اپنے اقتدار كے ہاتھ سے جانے سے بہت خوفزدہ تھے لہذا انہوں نے اپنے ذرائع ابلاغ اور پروپيگنڈوں كے ذريعے مكتب اہل بيت(ع) كی خالص تہذيب سے ماخوذ مقاومت كے تفكر كے خلاف زہر اگلنا شروع كر ديا ہے اور انہوں نے حزب اللہ لبنان كی مقاومت كو كمزور كرنے كے لئے كسی اقدام سے دريغ نہیں كيا ہے۔
انہوں نے مزيد كہا كہ دشمن اسلامی ممالك كو وحدت اور اتحاد جسے اہم اور اصلی مسائل سے دور ركھنے اور امت اسلام كے درميان اختلافات ايجاد كرنے كی كوششیں كر رہا ہے اور انہیں فرعی اور چھوٹے چھوٹے مسائل میں الجھا كر ركھ ديا ہے۔
تاج الدين نے آخر میں كہا ہے كہ اس وقت عالم اسلام كی سب سے بڑی مشكل اقتصادی وابستگی اور كمزوری كا احساس ہے جبكہ اسلامی ممالك میں بے شمار ذخائر موجود ہیں اور وہ اپنی خودكنائی اور استقلال كو محفوظ ركھ سكتے ہیں اور اس ميدان میں تمام مسلم ممالك كے لئے اسلامی جمہوریہ ايران بہترين آئیڈيل ہے۔
553047