بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق پاكستان كی ايك مسلمان خاتون بشری رحمان نے ۲۶ اپريل كو مسلمان دانشور خواتين كے بين الاقوامی سيمينار كی ظہر سے پہلے كی نشست میں اس مطلب كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ مسلمان ماؤں كو اپنے عميق اور گہرے سوچ وبچار كے ذريعے ايك راہ حل تلاش كرنا چاہیے كہ كس طرح وہ مغربی ثقافتی يلغار كے مقابلے میں اپنی تہذيب كی حفاظت كریں اور نئی نسل كو گمراہی سے بچائیں۔
انہوں نے مزيد كہا كہ اكيسویں صدی ايك ايسی صدی ہے كہ جس میں مسلمانوں كو خواب غفلت سے بيدار ہونا چاہیے كيونكہ اس وقت مسلمانوں كے خلاف مختلف قسم كے الزامات لگائے جا رہے ہیں اور جہاد كو شدت پسندی كہا جا رہا ہے اور اس دور میں مغربی میڈيا اپنے تمام تر تكبرو نخوت كے ساتھ اس غلط معنی كی ترويج كرنے كی كوشش كر رہا ہے۔
568864