بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے aksam كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ اديان كے مابين گفتگو كے فروغ كے لئے تركی كی سرگرميوں كے قالب میں منعقد ہونے والے اس سيمينار میں موجود مسلمان اور عيسائی دانشوروں نے دين اور ماڈرن زندگی كے درميان روابط كے بارے میں گفتگو كی ہے۔
امريكہ كی "جرج واشنگٹن" يونيورسٹی كے اسلامی علوم كے استاد "سيد حسين نصر" اور "ہاروارڈ" يونيورسٹی كے پروفيسر "ھاروی كوكس" نے اس نشست میں بحث وگفتگو كی ہے۔
سيد حسين نصر نے انيسویں صدی كے "كارل ماركس" جيسے افراد كے دين اور ماڈرنيزم كے درميان تصاوير پر مبنی كلام كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ كارل ماركس جيسے افراد كا دعوی تھا كہ ماڈرن دنيا كی ترقی كے ساتھ ساتھ دين آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گا ليكن آج ہم اكيسویں صدی میں لوگوں كی زندگی میں دين كی تاثير میں اضافے كا مشاہدہ كر رہے ہیں۔
583617