بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے "euractiv" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ تركی كی انجمن "سرگرم عمل خواتين" كی سربراہ "گلسرين اونانچ" نے اس مطلب كی وضاحت كرتے ہوئے كہا كہ معاشرے كی ترقی میں عورتوں كے كردار كے بارے میں اس انجمن كی سرگرميوں كے قالب میں منعقد ہونے والے اس سيمينار میں آكسفورڈ يونيورسٹی كے دينی علوم كے پروفيسر "طارق رمضان' خواتين كے امور سے عالمی بينك كے ركن آمانڈا اليس، لبنان كے سابقہ وزير ثقافت "سانيس پو"، "لور" انسٹیٹيوٹ كی سربراہ "انڈرينا ليور" يورپ كی انجمن خواتين كی قائم مقام "مارٹين لوی" اور پوری دنيا كو ۳۵۰ دانشور خواتين شركت كر رہی ہیں۔
انہوں نے مزيد كہاكہ اس وقت پوری دنيا میں اسلامی حجاب كے موضوع پر بہت زيادہ نشستیں منعقد ہورہی ہے اور بعض اوقات ان نشستوں میں مسلمان باپردہ خواتين كی مذمت كی جاتی ہے۔
585662