بين الاقوامی گروپ : ايك طرف سے يمنی عوام علی عبد اللہ صالح كو معزول قرار دے كر اس پر اور اس كے كارندوں پر مقدمہ چلانے كا مطالبہ كر رہے ہیں جبكہ دوسری طرف گزشتہ رات صالح نے ٹی وی پر خطاب كرتے ہوئے كہا : میں نے خليج فارس تعاون كونسل كی مجوزہ درخواست سے اتفاق كر ليا ہے كہ جس كے تحت اقتدار كی منتقلی پر امن انتخابات كے بعد كی جائے گی ۔
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے اطلاع رساں ويب سایٹ المنار كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ يمن كے آمر علی عبد اللہ صالح نے علاج معالجے كے بہانے سعودی عرب میں تين ماہ گزارنے كے بعد گزشتہ ہفتے وطن واپسی اختيار كی اور گزشتہ رات ۲۶ ستمبر ۱۹۶۲ء كے انقلاب كی انچاسویں سالگرہ كے موقع پر كہ جس كے بعد يمن میں جمہوری نظام كے قيام كا اعلان كيا گيا تھا ! سے خطاب كرتے ہوئے كہا : ہمیں خليج تعاون كونسل كی جانب سے اقتدار كی منتقلی كے حوالے سے پيش كردہ مجوزہ منصوبے پر اتفاق ہے اور حكومتی نائب سربراہ نے اس پر دستخط بھی كر دیے ہیں ۔
اس نے دعوٰی كيا : ہم يمن میں پر امن طريقے سے اقتدار كی منقلی كا عمل چاہتے ہیں اور موجودہ بحران سے نكلنے كے لیے خليج فارس تعاون كونسل كے منصوبے كو اصولی اور عملی راہ حل سمجھتے ہیں ۔
867392