ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے اطلاع رساں ويب سایٹ «Islam Today»، كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ جامعہ مسجد مارسی كی تعمير كا منصوبہ ۲۰۰۹ء میں منظور ہوا تھا ليكن اہل علاقہ كے اعتراض كے باعث اس كی تعمير روك دی گئی تھی ، اسی طرح فرانس كی دائیں بازو كی شدت پسند جماعت نے بھی مسجد كی تعمير پر احتجاج كيا تھا ۔
پروگرام كے مطابق مسجد كی تعمير ۲۲ ملين يورو كی لاگت سے آئندہ برس تك مكمل ہونا تھی ليكن اب انتظامیہ كو ايك مرتبہ پھر لائسنس كے لیے نئے سرے سے اقدام كرنا ہو گا ۔
ياد رہے كہ اس مسجد كے نقشے میں ايك قرآنی مدرسہ ، لائبريری اور ريسٹورنٹ كی جگہ بھی مختص گئی ہے ۔
888900