قرآنی خبررساں ايجنسی (ايكنا) كی رپورٹ كے مطابق المصطفی اوپن يونيورسٹی كے پبلك سيكشن كے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمين محمد اخوان روشندل اس اجلاس كہ جو مدرسہ بنت الہدی اور جامعۃ المصطفی العالمیہ كے تعاون سے ہوا، كہا امام خمينی (رہ) كا قيام ايك حكمت عملی كی بنياد پر تھا ۔
انہوں نے كہا امام خمينی (رہ) اكثر فرمايا كرتے تھے "اگر كسی نے بھی خمينی كا ساتھ نہ دياتو میں اكيلا عالمی اسكبا ر كے سامنے مقابلہ كروں گا" كيوں كہ وہ امام علی (ع) كی درسگاہ كا طالب علم تھے جيسا كہ امام علی (ع) نے فرمايا "اگر سب ميرے مقابلے كيلئے آجاؤ تو ميرے دل میں ذرا بھی خوف نہیں آئے گا"۔
انہوں نے آخر میں قرآن مجيد كی سورہ ابراہيم كی آيت 24 "كَشَجَرةٍ طَیِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِی السَّمَاء "كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا ہر قيام كہ جو خدا كيلئے اور اس كے دين كی ترويج كيلئے ہو ، جيسے نماز كا قيام ، زكاۃ كی ادائيگی ،امر بالمعروف اور نہی عن المنكر ، تو خدا خود اس كی حفاظت كرتا ہے اور خطرناك طوفان كے سامنے بھی محكم اور استوار رہتا ہے۔
950375