لبنان كے اديب ، ناول نگار،استاد اور سيد حسن نصر اللہ كے حوالے سے تين قصوں كے مصنف "علی حجازی" نے ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ كے ساتھ خصوصی گفتگو كے دوران كہا : اس سال عاشورا كے دن سيد حسن نصراللہ كا خطاب كے لیے منظر عام پر آنا ابن زياد كے مقابل پر امام حسين ﴿ع﴾ كے اس موقف كی ياد دلاتا ہے جس میں امام نے فرمايا تھا «أبالقتل تهددنی يابن الطلقاء القتل لنا عادة وكرامتنا من الله الشهادة» اے ہمارے آزاد کردہ غلام کی اولاد ! كيا تو ہمیں قتل سے ڈراتا ہے ؟ قتل ہونا ہماری عادت ہے اور شہادت اللہ كی جانب سے ہماری كرامت ہے ۔
انہوں نے مزيد كہا ہے كہ سيد حسن نصر اللہ كی ديگر خصوصيات میں سے ايثار اور دور انديشی قابل ذكرہیں ۔ ہر قسم كا رنج اور اذيتیں سہنے كے باوجود کبھی بھی سيد حسن نصراللہ نے كسی کو نقصان نہیں پہنچایا اور نہ ہی کسی کے لیے باعث اذيت بنے ہیں ۔
954925