ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی (ايكنا) نے "النخيل"نيوز ايجنسی سے نقل كيا ہے كہ سعودی عرب كے مفتی اعظم عبدالعزيز بن عبداللہ آل شيخ نے اس فتوے كے اعلان میں یہ دعوی كيا ہے كہ جزيرہ نما عرب دنيا میں اسلام كا مركز ہے، یہاں گرجا گھروں كا وجود عيسائيت كی حقانيت تسليم كرنے كے مترادف ہے۔
آل شيخ كا یہ فتوا ايسے وقت میں آيا ہے جبكہ كويت كی پارليمنٹ نے گذشتہ مہينے ايك نيا قانون پاس كيا ہے جس كے تحت كويت میں نئے گرجا گھروں كی تعمير پر پابندی لگادی گئی ہے۔ حالانكہ كويت كی سول سوسائٹی نے اس قانون پر اعتراض كيا ہے كہ كويت كے اس جديد قانون پر اس خطے میں بسنے والی اقليتوں مخصوصاً سعودی عرب، يمن اور عمان نے شديد اعتراض كيا ہے ۔
ذرائع ابلاغ كے مطابق آل شيخ كے اس فتوے سے خطے میں بسنے والے مختلف مذاہب كے درميان كشيدگی بڑھے گی۔
ياد رہے كہ اس سے پہلے آل شيخ كا فتوا اسلامی مذاہب میں فرقہ واريت كا سبب بنا ہے۔
973779