آل سعود مشرق وسطی میں تل ابيب كا اصلی مہرہ ہے

IQNA

آل سعود مشرق وسطی میں تل ابيب كا اصلی مہرہ ہے

23:50 - May 06, 2012
خبر کا کوڈ: 2319829
بين الاقوامی گروپ : صیہونی حكومت اور آل سعود اپنی تاريخ كے خطرناك ترين دور سے گزر رہے ہیں اس طرح كہ خطے میں اپنے اصلی اتحاديوں كو كھونے كے بعد اب اسلامی بيداری كا طوفان ان كی دہليز پر دستک دے رہا ہے ۔
سعودی عرب اس وقت اسرائيل كے لیے اميد كی آخری كرن اور دفاع كی آخری ديوار ہے ۔ درحالنكہ كہ رياض اور تل ابيب كے ايوانوں میں چھائی ہوئی تاريك فضا اس بات كی نشاندہی كر رہی ہے كہ دونوں ملكوں كی بقاء ايك دوسرے كے ساتھ تعاون میں ہے ۔ اسی طرح اسرائيلی كابينہ کی جانب سے سعودی حکومت كو دنيائے عرب میں صیہونی سياسی مفادات كے آخری محافظ كے طور پر ياد كيا جا رہا ہے اور اس كی علت یہ ہے کہ خطے میں اسرائيل كے بيشتر حامی اپنے انجام كو پہنچ چكے ہیں اور اب وہ اسرائيل كی حفاظت میں كسی قسم كا كردار ادا نہیں كر سكتے علاوہ ازیں سعودی عرب وہ تنہا ملك ہے جو اس وقت اسلامی جمہوریہ ايران كے مقابل پر كھڑا ہے لہذا اس بنياد پر تہران كے مقابلے كے لیے رياض تل ابيب كے دفاع كی آخری ديوار محسوب ہوتاہے۔
1001056
نظرات بینندگان
captcha