سعودی عرب اس وقت اسرائيل كے لیے اميد كی آخری كرن اور دفاع كی آخری ديوار ہے ۔ درحالنكہ كہ رياض اور تل ابيب كے ايوانوں میں چھائی ہوئی تاريك فضا اس بات كی نشاندہی كر رہی ہے كہ دونوں ملكوں كی بقاء ايك دوسرے كے ساتھ تعاون میں ہے ۔ اسی طرح اسرائيلی كابينہ کی جانب سے سعودی حکومت كو دنيائے عرب میں صیہونی سياسی مفادات كے آخری محافظ كے طور پر ياد كيا جا رہا ہے اور اس كی علت یہ ہے کہ خطے میں اسرائيل كے بيشتر حامی اپنے انجام كو پہنچ چكے ہیں اور اب وہ اسرائيل كی حفاظت میں كسی قسم كا كردار ادا نہیں كر سكتے علاوہ ازیں سعودی عرب وہ تنہا ملك ہے جو اس وقت اسلامی جمہوریہ ايران كے مقابل پر كھڑا ہے لہذا اس بنياد پر تہران كے مقابلے كے لیے رياض تل ابيب كے دفاع كی آخری ديوار محسوب ہوتاہے۔
1001056