پيرس كی راتیں؛ سركوزی كے بغير

IQNA

پيرس كی راتیں؛ سركوزی كے بغير

7:15 - May 12, 2012
خبر کا کوڈ: 2323336
بين الاقوامی گروپ: پيرس میں مختلف اديان اور مذاہب كے لوگ رہائش پذير ہیں البتہ گذشتہ چھ سال سے فرانس كے دوسرے شہروں كی طرح نكولس سركوزی كی حكومت پيرس كے مسلمانوں كيلئے نا امن ہوگی تھی پوليس كی رپورٹ كے مطابق پيرس میں آدھی رات كے وقت مسلمانوں اور مسلم راہنماؤں پر حملوں میں روز بروز اضافہ ہورہا تھا۔
ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی (ايكنا) كی رپورٹ كے مطابق فرانس میں مسلمانوں كی تعداد 8 ملين ہے اور ان كی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ۔ آبادی میں اضافہ كے ساتھ ہی ذرائع ابلاغ كے تجزئیے اس بات كی وضاحت كررہے ہیں كہ مسلمانوں كی آبادی انتخابات كے نتائج پر اثر انداز ہوسكتی ہے۔ ليكن گذشتہ سالوں سے مسلمانوں پر الزامات كی وجہ سے فرانس مسلمانوں كيلئے نا امن ہوچكا ہے۔ سركوزی كی حكومت میں سيكورٹی اقدامات كے نام پر علماء كی رفت و آمد پر نظر، مسلمانوں كے گھروں اور مساجد كی انسپكشن جيسے اقدام میں شدت برتی گئی۔ دائیں بازو كے مسلمانوں كے امتيازی سلوك كی وجہ سے فرانس كی ليبرل حكومت كيلئے بہت ساری مشكلات پيدا ہوئی جس كی وجہ سے فرناس كو بين الاقوامی سطح پر شرمندگی ہوئی۔
1004265
نظرات بینندگان
captcha