جمہوریہ آذربائيجان قفقاز كے جنوب میں واقع ہے جس نے ١۹۹۰ء كے دوران رشين فیڈريشن كے تسلط سے آزادی حاصل كی تھی ۔ مسلمانوں اور شيعہ اكثريت پر مشتمل یہ چھوٹا سا ملك گزشتہ دو دہائيوں سے خاندان علی اف كی حكومت كے زير نگرانی چل رہا ہے جبكہ ملك میں سياسی اور مطبوعاتی آذاديوں كی حالت ناگفتہ بہ ہے اسی سلسے میں ايكنا نے آذربائيجان كے دارالحكومت باكو میں تعينات اسلامی جمہوریہ ايران كے سابق سفير"ڈاکٹر افشار سليمانی" ، كے ساتھ خصوصی گفتگو كی ہے ۔
ايكنا : اسلام اور اسلام پسند عناصر جمہوریہ آذربائيجان كی سياست پر كس حد تك اثر انداز ہوتے ہیں ؟
آذربائيجان میں اسلام نہ صرف یہ كہ ملك كی سياسی پاليسيوں پر كسی قسم كی تٲثير نہیں ركھتا بلكہ عوام كی اكثريت بھی حكمرانوں كی جانب سے اسلام كو مسخ كرنے اور ان كی فولادی ديواروں اور ركاوٹوں كی وجہ سے اسلامی معارف سے مكمل طور پر بے بہرہ ہیں اور عوام كی بہت كم تعداد نے اسلامی احكام كی نسبت اپنی حساسيت كا اظہاركيا ہے۔
1005600