بين الاقوامی گروپ : یہ بات يقينی ہے كہ اردن كے بادشاہ عبد اللہ دوم نے سعودی مالی امداد بندش كے ڈر سے فلسطينيوں كو ملک سے نكالنے میں جلدی كی ہے ، درحالنكہ ادرن میں مالی بے قاعدگياں اس حد تك بڑھ چكی ہیں كہ اس قسم كے اقدامات ان كی بہتری كے لیے سودمند ثابت ہونے کے بجائے صرف حكام سے عوام كی نفرت میں اضافے كا باعث بنیں گے ۔
جمعہ ١۵ جون كو ايك بار اردن كے دارالحكومت "امان " میں احتجاجی مظاہرے كیے گئے ہیں جن میں عوام كی جانب سے اقتدار میں بنيادی تبديليوں كو ملك كے سياسی اور اقتصادی بحران كا حل قرار ديا گيا ہے ۔ یہ مظاہرے امان كے علاوہ ملك كے ديگر بڑے شہروں میں بھی منعقد كیے گئے ہیں ۔ ان مظاہروں كے دوران عوام نے ہاتھوں میں پلے كارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ملك كے موجودہ وزير اعظم "الطراونہ" كی حكومت كی سرنگونی اور بنيادی قانون میں اصلاحات اور ترميمات كو بحران كا واحد راہ حل قرار دينے پر مشتمل عبارتیں درج تھیں ۔
1031000