بين الاقوامی گروپ : مصر میں صدارتی انتخابات كو مبارك كی سرنگونی كے بعد ملكی تاريخ كی سب سے بڑی تبديلی كہا جا سكتا ہے ۔ درحالنكہ سياسی قوتیں انتخابات كے دوسرے مرحلے كا انتظار كر رہی ہیں فوجی طاقتیں ملك ميں سياسی نظام كی تبديلی كو روكنے كی مسلسل كوششیں كررہی ہیں تاكہ انقلاب كے دوران فوجی بغاوت كو اپنے مفاد كے لیے استعمال كر سكیں ۔
مصر ايك بہت بڑا اسلامی ملك ہےجس میں اسلامی بيداری كی لہر نے فرعونيت كے ايوانوں كو لرزہ براندام اور اميد كے چراغ كو روشن كرديا ہے اس بنياد پر مصر كے سياسی مستقبل كے تناظر میں صدارتی انتخابات كے دوسرے مرحلے اور اس كے بيرونی اثرات كی طرف توجہ كرتے ہوئے ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا ) نے مشرق وسطی كے مسائل كے ماہر اور تجزیہ نگار "سيد مرتضی ميری" كے ساتھ گفتگو كی ہے :
ايكنا : آيا مصر كے صدارتی انتخابات ملك كے سياسی نظام میں كسی قسم كی تبديلی لا سكتے ہیں ؟
ميرے خيال میں مصر كے صدارتی انتخبات كا نتيجہ ملك كے سياسی نظام میں بہت بڑی تبديلی لائے گا ۔ كيونكہ اگر محمد مرسی دوسرے مرحلے میں كامياب ہو جائیں اور احمد شفيق كی حمايت میں كسی قسم كی فوجی بغاوت نہیں ہوتی تو ايك بہت بڑی سياسی تبديلی ديكھنے كو مل سكتی ہے ۔
1030875