ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ''ايكنا'' نے لبنان سے شائع شدہ اخبار '' اللواء'' سے نقل كيا ہے كہ ليبيا كی عبوری كونسل كے صدر مصطفی عبدالجليل نے العربیہ سٹلائٹ چينل سے گفتگو كرتے ہوئے كہا۔ امام موسی صدر اور ان كے ساتھی طرابلس سے اٹلی نہیں گئے تھے ۔ یہ ايك حقيقت ہے اور اس كی تفصيلات اٹارنی جنرل كی فائل میں موجود ہے۔
انہوں نے مزيد كہا۔ امام موسی صدر اور ان كے ساتھی اٹلی نہیں گئے بلكہ جو لوگ اٹلی گئے انہیں ہم جانتے ہیں اور یہ كہ امام موسی صدر زندہ ہیں يا نہیں یہ تحقيقات سے ہی پتہ چلے گا۔ تحقيقاب كے مطابق امام موسی صدر كے كپڑے ملے ہیں۔
عبور كونسل كے صدر نے بتايا كہ ايك اجتماعی قبر ملی ہے اور ہمارا اعتقاد ہے كہ ان لاشوں میں سے ايك لاش امام موسی صدر كی ہے البتہ لبنانی حكومت نے DNA ٹسٹ كی درخواست كی تھی۔ ليكن ابھی تك اس كا جواب نہیں آيا ہے۔
يادرہے كچھ عرصہ پہلے لبنانی اخبار '' اللواء'' نے ادعا كيا تھا كہ امام موسی صدر 20 سال اغواء كے بعد بھی زندہ رہے اور 1998 میں جيل كی سختيوں كی وجہ سے انتقال كر گئے۔
1035612