بين الاقوامی گروپ : شام میں دہشت گردوں كی آمد اور ملك مين خانہ جنگی كے آغاز سے ہی خليجی ممالك كے بہت سے سربراہ اور تركی جيسے نام نہاد اسلامی ممالك شام میں بھی ليبيا كی طرح فوجی طاقت كے استعمال كا مطالبہ كر رہے ہیں جن كو ہر بار امريكہ كی جانب سے مخالفت كا سامنا كرنا پڑا ہے اور یہ امر اس بات كی نشاندہی كرتا ہے كہ مغربی ممالك من جملہ امريكہ اس بات كو اچھی طرح جانتے ہیں كہ ليبيا كا ماڈل كسی عنوان سے بھی شام میں قابل استعمال نہیں ہے ۔
شام كے شہر حلب میں كشيدگی كے بعد بشار اسد كے طرفداروں اور مخالفين كے درميان لڑائی كا سلسلہ اب نئے مرحلے میں داخل ہو چكا ہے جس كو شامی حكومت كے طرفدار اور مخالف دونوں ہی فيصلہ كن جنگ قرار دے رہے ہیں ۔
واضح رہے كہ دمشق میں شامی فوج اور دہشت گردوں كے درميان شديد جھڑپوں اور شہر سے دہشت گردوں كے مكمل خاتمے كے بعد حلب میں لڑائی شروع ہوئی تھی ۔
1064182