ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے روزنامہ "المصری اليوم" كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ مصر كے كيتھوليك كليسا كے ترجمان "رفيق جريش" نے خيال ظاہر كيا : اس كليسا نے ۱۰ سال پہلے اقوام متحدہ سے اديان كی توہين كو ممنوع قرار دينے پر مشتمل قانون بنانے كا مطالبہ كيا تھا ليكن ابھی تك اس بين الاقوامی ادارے نے اس تجويز پر عمل درآمد كے لیے ٹھوس اقدامات نہیں كیے ہیں ۔
مصر میں "انسانی حقوق كے لیے بين الاقوامی امن" نامی مركز كے صدر "صليب متی ساويرس" نے كہا :اديان كی توہين كو جرم قرار دينے پر مشتمل بين الاقوامی قانون اور توہين كے مرتكب مجرموں كو كيفر كردار تك پہنچانے لیے عالمی عدالت كا قيام وقت كی اہم ضرورت ہے ۔
1101485