ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نے صوت العراق نیٹ ورك سے نقل كيا ہے كہ ان مظاہروں میں حوزہ علمیہ نجف كے اساتذہ، طلاب اور علماء كرام نے شركت كی۔ مظاہرين نے عراق كی سياسی حكام كی طرف سے مراجع تقليد كی ہونے والی بے احترامی كی شديد مذمت كی۔
اس مظاہرہ كے آخر میں قرار داد پيش كی گئی جس میں طلاب اور علماء كرام كی بے احترامی كی شديد مذمت كی گئی۔
اس قرارداد میں مزيد یہ تھا: ہم مذہبی شخصيات كی توہين كی مذمت كرتے ہیں۔ اور عراق كے سياسی عمل میں دخالت، دينی مرجعيت كا نتيجہ ہے اور مراجع كا وجود تھا جس نے اس ملك كی بنياد كو مضبوط اور ترقی كی راہ پر گامزن كيا۔
اس قرارداد میں تاكيد كی گئی: دينی مراجع كہ جنہوں نے استكبار كا ڈٹ كر مقابلہ كيا اگر مراجع نہ ہوتے تو عراق كی یہ حالت نہ ہوتی بلكہ اس سے بدتر ہوتی، اور سياسی حكام ان عہدوں پر فائز نہ ہوسكتے جو آج یہاں پر موجود ہیں۔
واضح رہے كہ اس سے پہلے بھی كچھ سياسی حكام نے مرجعيت كے خلاف بيانات ديئے تھے، جيسے عراق كی پارليمنٹ كے نمائندے حسين الاسدی نے مرجعيت كے خلاف بيانات ديئے جو عراق كے مختلف مذہبی جماعتوں كی طرف سے مذمت كا باعث بنا۔
1155473