انتخابات اسلامی نظام كی سياسی كاميابی اور اقتدار كا مظہر ہیں : رہبر معظم انقلاب

IQNA

انتخابات اسلامی نظام كی سياسی كاميابی اور اقتدار كا مظہر ہیں : رہبر معظم انقلاب

1:15 - March 23, 2013
خبر کا کوڈ: 2513223
بين الاقوامی گروپ : : قائد انقلاب آيت اللہ سيد علی خامنہ ای نے فرمايا : انقلاب اسلامی كے ساتھ دوستی اورمحبت ركھنے والے تمام افراد اورسياسی جماعتوں كو انتخابات میں بھر پور شركت كرنی چاہیے اور اللہ تعالی كے لطف و كرم سے انتخابات میں عوام كی وسيع پيمانے پر شركت بہت ضروری ہے كيونكہ ملك كے تمام اصلی مسائل میں صدارتی انتخابات بہت ہی اہم اور مؤثر ہیں۔
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نے دفتر رہبر معظم انقلاب كی ويب سائیٹ كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے نئے سال 1392 ہجری شمسی اور بہار كے پہلے دن كے موقع پرحضرت امام رضا علیہ السلام كے روضہ مبارك كے لاكھوں زائرين اور مجاورين كے ايك عظيم اور شاندار اجتماع سے اپنےاہم خطاب میں گذشتہ سال 1391 ہجری شمسی میں ايرانی قوم كے دشمنوں كی جانب سے وسيع پيمانے پر ركاوٹوں اور گمراہ پروپيگنڈے كے باوجود ايرانی قوم كی پيشرفت و ترقی كا جائزہ ليا اور امريكہ كے ساتھ مذاكرات كے سلسلے میں اساسی اور بنيادی نكات پيش كئے ، اقتصادی جہاد اور تيل كی درآمد سے وابستگی ختم كرنے اور بلند مدت اقتصادی پاليسياں وضع كرنے اور دشمن كے شوم منصوبوں كے اجراء سے قبل سنجيدہ اور ہوشمندانہ اقدام كے بارے میں تشريح فرمائی، اور ايران میں انتخابات كے انعقاد كو ايرانی سياست كا شاندار مظہر قرارديتے ہوئے فرمايا: انقلاب اسلامی كے ساتھ دوستی اورمحبت ركھنے والے تمام افراد اورسياسی جماعتوں كو انتخابات میں بھر پور شركت كرنی چاہیے اور اللہ تعالی كے لطف و كرم سے انتخابات میں عوام كی وسيع پيمانے پر شركت بہت ضروری ہے كيونكہ ملك كے تمام اصلی مسائل میں صدارتی انتخابات بہت ہی اہم اور مؤثر ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نےاپنے اہم خطاب میں نئے سال كی آمد پر ايك بار پھر مباركباد پيش كی، اور گذشتہ سال میں ملك كے كمزور اور قوی نقاط كا جائزہ ليا اور اس جائزے كی روشنی میں بلند مدت منصوبہ وضع كرنے كو لازمی قرارديتے ہوئے فرمايا: جس طرح انسان كو انفرادی، ذاتی اور شخصی طور پر اپنے دائمی محاسبہ كی ضرورت ہے، اسی طرح ملك كےقومی مسائل كا محاسبہ اور جائزہ بھی اہميت كا حامل ہے كيونكہ گذشتہ اموركو ںظر میں ركھتے ہوئے ان كی بنياد پر آئندہ كے لئے فيصلہ كرنے چاہيیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مختلف ممالك ، دانشوروں اور اقوام كی جانب سے تجربات حاصل كرنے كے لئے ايرانی قوم كی كاميابيوں اور كاركردگيوں پر گہری اور دقيق نظر اور اسی طرح ايرانی قوم كےكمزور نقاط پر دشمنوں كی طرف سے بھی دقيق اور گہری نظر ركھنے كی جانب اشارہ كرتے ہوئے فرمايا: اس لحاظ سے بھی ايرانی قوم كو ملك كے شرائط كے بارے میں صحيح اور درست حقائق پر مبنی نگاہ ركھنی چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے صرف اقتصادی دباؤ، بعض كارخانوں كی پيداوار میں كمی اور مہنگائی جيسے مسائل كو مد نظر ركھنے اور ان كا جائزہ لينے كو غلط و ناقص جائزہ اور تحليل قرارديتے ہوئے فرمايا: ايرانی قوم كے چيلنجوں كے ميدان میں صحيح نگاہ یہ ہے كہ كمزورو ضعيف نقاط اور مشكلات كے ساتھ ساتھ ترقی و پيشرفت كے عظيم نتائج پر بھی توجہ مبذول كرنی چاہیے اور اس صورت میں ايرانی قوم كی كاميابی اور سربلندی كا صحيح نتيجہ اخذ كيا جاسكتا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ايران قوم كو مفلوج كرنے كے بارے میں اقتصادی پابندياں عائد كرنے كے سلسلے میں امريكی حكام كے صريح اور آشكارا بيانات كی طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا: ايرانی قوم نے چلينج كے اس ميدان میں دشمن كی دھمكيوں كو ہوشمندی اور عظيم ظرفيت كے ذريعہ فرصت میں تبديل كرديا اور اس ميدان میں بھی ايرانی قوم ايك كامياب كھلاڑی كی طرح ميدان سے كامياب باہر آگئی جسے سبھی تحسين آميز نگاہ سے ديكھ رہے ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمايا: اگر ايسی نگاہ ملك كے شرائط پر ڈالی جائے تويقينی طور پر ايرانی قوم اس عظيم ميدان كی فاتح ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمايا: چيلنجز سے بھرے ہوئے اس ميدان میں ايرانی قوم كی كاميابياں ايسی واضح اور روشن ہیں جن كی مختلف ممالك كے دانشور، سياسی ماہرين ، ممتاز شخصيات تعريف كررہے ہیں اور حتی ايرانی قوم كے بارے میں بری نيت ركھنے والے ممالك بھی ان كاميابيوں كا اعتراف كرنے پر مجبور ہیں ۔
رہبرمعظم انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے ايرانی قوم كی پيشرفت سے ہميشہ ناراض رہنے والے گروہ كی طرف اشارہ كرتے ہوئےفرمايا: یہ گروہ جو ايرانی عوام كا اصلی دشمن ہے اوروہ ايرانی قوم كی ترقی اور پيشرفت كر روكنے كے لئے دو طريقوں سے استفادہ كررہا ہے؛1) عملی ركاوٹ جس میں اقتصادی پابندياں ، دھمكياں، حكام اور قوم كے دانشوروں اور اعلی شخصيات كو فرعی اور غير ضروری امور میں مشغول كرنا، 2) ايرانی قوم كی عظيم ترقيات كو پنہاں كرنے اور كمزور نقاط كو بڑھا چڑھا كر اور بڑا بنا كر پيش كرنے كے سلسلے میں وسيع پيمانے پر پروپيگنڈہ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ايران قوم كے بد نيت دشمنوں كی جانب سے سال 1391 ہجری شسمی كو بڑی تلاش و كوشش كا سال قرارديتے ہوئے فرمايا: انھوں نے واضح طور پر اعلان كيا كہ ان كا مقصد ايرانی قوم كو مفلوج كرنے اور اسے گھٹنے ٹيكنے پر مجبور كرنا ہے، لہذا اگر ايرانی قوم ان كے دباؤ اور دھمكيوں كے باوجود اپنے پاؤں پر كھڑی ہےتو یہ ان كی آبروريزی اور شكست و ناكامی كا باعث ہوگا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس كے بعد دو سوال پيش كئے: 1) ايرانی قوم كے خلاف سازشوں كا اصلی مركز كہاں ہے؟ 2) ايرانی قوم كے دشمن كون لوگ ہیں؟
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پہلے سوال كا جواب ديتے ہوئے فرمايا: ايرانی قوم كے خلاف سازشوں كا اصلی مركز امريكہ ہے اور گذشتہ 34 برسوں سے آج تك جب بھی دشمن كا نام ليا جاتا ہے ايرانی قوم كا ذہن امريكہ كی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمايا: امريكی حكام كو اس مطلب كے بارے میں دقت كے ساتھ غور كرنا چاہیے اور اپنے آپ سے سوال كرنا چاہیے كہ دشمن كا نام ليتے وقت ايرانی قوم كا ذہن ہميشہ كيوں امريكہ كی طرف متوجہ ہوجاتا ہے؟
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسی طرح ايرانی قوم كے دشمنوں كی طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا: امريكہ ايرانی قوم كے خلاف سازشوں كا اصلی مركز اور ايرانی قوم كا درجہ اول كا دشمن ہے ليكن امريكہ كے علاوہ ايرانی قوم كے كچھ اور بھی دشمن ہیں جن میں برطانیہ كی خبيث حكومت بھی شامل ہے جو خود مستقل نہیں بلكہ وہ امريكہ كی پيروكار اور اس كے تابع ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب كے اس مرحلے میں فرانسيسی حكومت كے بارے میں بھی ايك نقطہ كی طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا: اسلامی جمہوریہ ايران كو فرانسيسی قوم اور حكومت كے ساتھ كوئی مشكل نہیں رہی ہے ليكن حالیہ برسوں بالخصوص سركوزی كی حكومت نے ايرانی قوم كے ساتھ عداوت اور دشمنی كی پاليسی كی داغ بيل ڈالی اور فرانس كی یہ غلط پاليسی اسی طرح جاری ہے اور فرانس كا یہ اقدام غير سنجيدہ اور غير دانشمندانہ ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسرائيل كی جانب اشارہ كرتے ہوئے فرمايا: اسرائيلی حكومت كی اتنی حيثيت اور وقعت نہیں ہے كہ وہ ايرانی دشمنوں كی صف میں شمار ہو۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسرائيلی حكام كی طرف سے ايران كے خلاف فوجی حملے پر مبنی دھمكيوں كی طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا: اگر اسرائيل نےكسی غلطی اور اشتباہ كا ارتكاب كيا تو اسلامی جمہوریہ ايران تل ابيب اور حيفا كو خاك كے ساتھ يكساں كرےگا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمايا: امريكہ ہميشہ ايرانی قوم كے ان چند دشمنوں كو " عالمی برادری " كے نام سے تعبير كرتا ہے جبكہ یہ چند ممالك عالمی برادری نہیں اور جو حقيقت میں عالمی برادری ہے اس كو ايران اور ايرانی قوم سے كوئی دشمنی نہیں ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ايرانی قوم كے معدود اور چند حقيقی دشمنوں كے بارے میں وضاحت اور سال 1391 ہجری شمسی میں ان كے معاندانہ اقدامات كی طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا: امريكيوں نے ايرانی قوم كے ساتھ ظاہری طور پر دوستی كا اظہار كرنے كے ساتھ ساتھ ، گذشتہ سال كے اوائل سے ايران كے تيل كے شعبہ اور بينكی نظام كےخلاف شديد پابندياں عائد كرنے كا آغاز كيا اور ان معاندانہ اقدامات كے بعد بھی وہ یہ ظاہر كرنے كی كوشش كررہے ہیں تاكہ وہ ايرانی قوم كے دشمن تصور نہ كئے جائیں ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امريكہ كی اس پاليسی كو آہنی پنجہ پر مخملی دستانہ چڑھانے كی پاليسی كا حصہ قرارديتے ہوئے فرمايا: انھوں نے ظاہری فريب كے برعكس طے شدہ منصوبوں كے مطابق اپنی حركت كا آغاز كيا اور انھیں توقع تھی كہ ايرانی قوم چند ماہ كے بعد ان كی منہ زوری اور تسلط پسندی كے سامنے تسليم ہوجائے گی اور اپنی علمی اور سائنسی سرگرميوں كا سلسلہ بند كردےگی ليكن ايسا نہیں ہوا اور ايرانی قوم نے دشمنوں كی مرضی كے خلاف عمل كيا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اقتصادی پابنديوں كے مؤثر واقع ہونے كے بارے میں امريكيوں كی خوشی اور اس سلسلے میں بعض ايرانی حكام كے اظہارات كی طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا: اقتصادی پابنديوں كا وہ اثر نہیں ہوا جيسا وہ چاہتے تھے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمايا: اگر پابنديوں كا كچھ اثر ہوا بھی ہے تو وہ ايران كے اقتصاد كے تيل سے وابستہ ہونے كی وجہ سے ہوا ہے اور اسی بنياد پر آئندہ حكومت كے اصلی ترجيحی منصوبوں میں تيل سے وابستہ اقتصاد شامل نہیں ہونا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تيل سے غير وابستہ اقتصاد اور تيل كے كنویں مرضی كے مطابق بند كرنے كے بارے میں اپنے چند سال قبل كےبيانات كی طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا: اس دور میں بعض حضرات جو اپنے آپ كو ٹيكنوكریٹ تصور كرتے تھے وہ ميری یہ بات سنكر مسكرا ديئے اور انھوں نے كہا كہ كيا ايسا كام امكان پذير ہے؟
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاكيد كرتے ہوئے فرمايا: تيل سے غير وابستہ اقتصاد تك پہنچنا امكان پذير ہے ليكن اس كی اصلی شرط درست منصوبہ بندی اور اجراء ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سال 91 ہجری شمسی میں دشمنوں كی طرف سے انجام پانے والے معاندانہ اقدامات كی تشريح كے بعد ان كی سياسی ميدان میں كوششوں كی طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا: ايرانی قوم كے دشمنوں نے سياسی ميدان میں بھی ايران كو الگ تھلگ كرنے كی بہت كوشش كی ليكن تہران میں ناوابستہ تحريك كے ركن ممالك كے اجلاس اور اس اجلاس میں عالمی رہنماؤں كی بڑے پيمانے پر شركت ، اور عالمی رہنماؤں كی جانب سے ايران كی حيرت انگيز پيشرفت پرخوشحالی سے دشمن كے شوم منصوبے مكمل طور پر شكست و ناكامی سے دوچار ہوگئے ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سياسی ميدان میں دشمنوں كے ديگر اقدامات میں ايرانی قوم میں شك و ترديد ايجاد كرنے اور ايرانی قوم كو اسلامی نظام سے دور كرنے كی كوشش قرارديتے ہوئے فرمايا: بائيس بہمن كی عظيم ريليوں میں عوام كی بھر پور شركت اور اسلام اور انقلاب اسلامی كے بارے میں ان كے احساسات و جذبات كا اظہار دشمنوں كے منہ پر زوردار طمانچہ تھا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے سكيورٹی كے شعبہ میں دشمن كی بعض ناكام كوششوں اور علاقائی سطح پر ايران كے اثر و رسوخ كو كم كرنے كی تلاش و كوشش كو دشمن كے ديگر سياسی اقدامات كا حصہ قرارديتے ہوئے فرمايا: غزہ كی 8 روزہ جنگ كے پيچھے ايران كا طاقتور ہاتھ اور فلسطينی مجاہدين كے مقابلے میں اسرائيلی حكومت كی شكست ، ايران كی عدم موجودگی كی وجہ سےعلاقائی مسائل كے حل نہ ہونے كے بارے میں دشمنوں كا اعتراف ، ان ميدانوں میں دشمن كی عداوتوں كے غير مؤثر ہونے كا سبب ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاكيد كرتے ہوئے فرمايا: دشمن كے دباؤ اور اقتصادی پابنديوں كے منفی اثرات كے ساتھ ساتھ بڑے مثبت اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں جن میں گذشتہ سال كے دوران ايرانی قوم كی اندرونی صلاحيتوں كے فعال ہونے اور عظيم تعميری كاموں كی تكميل كے منصوبے شامل ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اقتصادی پابنديوں كے باوجود گذشتہ سال میں انجام پانےوالے ترقياتی اور تعميری كاموں كی طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا: تيل اور يورينيم كے جديد ذخائر كا انكشاف، بجلی پلانٹس اور آئيل ريفائنری كے شعبہ میں فروغ، انرجی اور روڈ كے شعبہ میں ترقياتی كام، سائنس و ٹيكنالوجی كے شعبہ میں اہم پيشرفت اور ناہيد سٹلائٹ اور زندہ جانور كے ساتھ پيشگام سٹلائٹ كو فضا میں بھيجنے ، پيشرفتہ جنگی جہاز بنانے ، جديد تركيب پر مشتمل نئی دواؤں كی ساخت، علاقائی سطح پر نانو ٹيكنالوجی میں پہلے مقام كا حصول، سائنس و ٹيكنالوجی میں اہم پيشرفت، ملك میں طلباء كی تعداد میں اضافہ، اسٹيم سيلز كے شعبہ میں اہم كاميابی، ایٹمی اور جديد انرجی كے شعبوں میں پيشرفت ، ايرانی جوانوں اور سائندانوں كی اس سال میں پيشرفت كا مظہر ہیں جس میں دشمن نے ايرانی قوم كو مفلوج كرنے كا منصوبہ بنا ركھا تھا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمايا: سال 91 ہجری شمسی كے نتائج اور كاميابيوں كا سب سے بڑا سبق یہ ہے كہ دشمن ايك زندہ دل قوم كو دباؤ اور اقتصادی پابنديوں كے ذريعہ اپنے سامنے تسليم ہونے پر مجبور نہیں كرسكتا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمايا: سال 91 ہجری شمسی در حقيقت ايك تمرين اور مشق كا سال تھا جس میں ايرانی قوم نے اپنی توانائيوں اور ترقيات كو پيش كيا اور اس كے ساتھ اس نے اپنی بعض خاميوں كو بھی پہچان ليا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے گذشتہ سال ملك كے كمزور اقتصادی نقاط كی طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا: ملك كی تيل كے ساتھ وابستگی، بلند مدت اقتصادی پاليسيوں پر عدم توجہ، اور روز مرہ كے امور میں گرفتاری اقتصادی مشكلات كا اصلی سبب ہیں اور آئندہ آنے والی حكومت كو ان امور پر توجہ دينی چاہیےاور ملك كی بلند مدت اقتصادی پاليسيوں كو واضح ، آشكار اور منصوبہ بندی كے ساتھ تدوين كرنا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملك كی قوی بنياد كے مشخص ہونے كو سال 91 ہجری شمسی كا ايك اور درس قرارديتے ہوئے فرمايا: ملك كی بنياد جتنی مضبوط ہوگی اور حكام جس قدر اتحاد ، ہمدلی اور تدبير كے ساتھ كام انجام دیں گے دشمن كے معاندانہ اقدامات كے اثرات اتنے ہی كم ہوجائیں گے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اقتصاد كے علاوہ سكيورٹی، عوام كی صحت و سلامتی ، سائنسی ترقيات، قومی عزت و استقلال جيسے مسائل كو بھی ملك كے اہم مسائل قرارديتے ہوئے فرمايا: ايرانی قوم نے گذشتہ سال میں اپنی كاميابيوں كے ذريعہ ثابت كرديا ہے كہ امريكہ اور ديگر بڑی طاقتوں كے ساتھ عدم وابستگی پسماندگی كا سبب نہیں بلكہ پيشرفت اور ترقی كا موجب بنتی ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سال 91 ہجری شمسی میں ملك كے حقيقی شرائط كے بارے میں جامع تحليل و تجزیہ پيش كرنے كے بعد گذشتہ سال كے مسائل سے آئندہ كے بارے میں دو نكتوں كی طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا: پہلا نكتہ یہ ہے كہ دشمن كے منصوبہ كو ہوشياری كے ساتھ قبل از وقت پہچان لينا چاہیے ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس سلسلے میں فرمايا: تہران كے دوا بنانے كے ريكٹر كے لئےبيس فيصد يورينيم افزودہ كرنے كے سلسلے میں ايرانی جوانوں كا اقدام اسی سلسلے كا ايك نمونہ ہے اور ملك كے تمام مسائل میں اسی قسم كے اقدامات انجام دينے چاہيیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے علمی كاموں میں پيشقدمی كو حكومتوں، صنعتكاروں، كسانوں، سرمایہ كاروں، تاجروں،محققين، ،صنعتی اور علمی منصوبہ سازوں، يونيورسٹيوں كے اساتذہ ، اقتصادی ماہرين،سائنس اور ٹيكنالوجی پارك كے دانشوروں كی عظيم اخلاقی ذمہ داری قرارديتے ہوئے فرمايا: سب كی ذمہ داری ہے كہ وہ ملك كو دشمن كے حملوں كے مقابلے میں مضبوط ، مستحكم اور ناقابل تسخيربنانے میں اپنا اہم كردار ادا كریں ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمايا: یہ موضوع پائدار اقتصاد كے تقاضوں میں سے ايك ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب كے اس حصہ میں دوسرے نكتہ كے طور پر مذاكرات كے سلسلے میں امريكيوں كے متعدد پيغامات اور اظہارات كی طرف اشارہ كيا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمايا: امريكی كچھ عرصہ سے متعدد طريقوں سے پيغام بھيج رہے ہیں كہ وہ ايران كے ساتھ ایٹمی معاملے پر الگ مذاكرات كرنا چاہتے ہیں ليكن میں گذشتہ تجربات كی روشنی میں ان مذاكرات كے بارے میں مطمئن نہیں ہوں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نےفرمايا: امريكی گفتگو اور مذاكرات كے ذريعہ كسی منطقی راہ حل تك پہنچنے كے حق میں نہیں ہیں بلكہ امريكہ گفتگو كے ذريعہ فريق مقابل كو اپنے مطالبات كے سامنے تسليم كرنے كی كوشش كرتا ہے لہذا ہم ہميشہ امريكی مذاكرات كو مسلط كردہ مذاكرات سمجھتے ہیں اور اسلامی جمہوریہ ايران كوبھی اس قسم كے مذاكرات كبھی پسند نہیں ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امريكہ كے ساتھ مذاكرات پر عدم اطمينان كا اظہار كرتے ہوئے فرمايا: البتہ مجھے مذاكرات سے كوئی مخالفت بھی نہیں ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس كے بعد امريكيوں كے لئے چند مطالب بالكل واضح طور پر بيان كئے۔
پہلا مطلب جس كی طرف رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اشارہ كيا، وہ ايرانی حكومت كو تبديل نہ كرنے پر مبنی امريكہ كے متعدد پيغامات ہیں ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس سلسلے میں تاكيد كرتے ہوئے فرمايا: ہمیں اسلامی نظام كی تبديلی كے امريكی قصد و ارادے پر كبھی تشويش لاحق نہیں ہوئی كيونكہ جس دور میں امريكی واضح طور پر ايران كے اسلامی نظام كو تبديل كرنے كی آشكارا بات كرتے تھے اس دور میں بھی وہ ايسا نہیں كرسكے اور اس كے بعد بھی امريكی ايسا نہیں كرسكیں گے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مذاكرات میں امريكيوں كی صداقت كو دوسرے موضوع كے عنوان سے پيش كرتے ہوئے فرمايا: ہم نے بارہا كہا ہے كہ ہم ایٹمی ہتھياروں كی تلاش میں نہیں ہیں ليكن امريكی ہماری بات پر يقين نہیں كرتے اور كہتے ہیں كہ انھیں يقين نہیں آتا ہے تو ايسے شرائط میں ہم كيسے مذاكرات میں امريكيوں كی بات كو سچا مان سكتے ہیں جبكہ ماضی كی تاريخ امريكيوں كے جھوٹ سے بھری پڑی ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمايا: ہمارا خيال یہ ہے كہ مذاكرات كی تجويزامريكہ كی حكمت عملی ہے اور وہ اپنی اس حكمت عملی كے ذريعہ عالمی رائے عامہ اور ايرانی عوام كو فريب دينا چاہتا ہے اور اگر ايسا نہیں ہے تو پھر امريكيوں كو یہ بات عمل میں ثابت كرنی چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے اسی سلسلے میں امريكيوں كی ايك تبليغاتی حكمت عملی كی طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا: انھوں نے بعض موارد میں كہا ہے كہ ايران كے رہبر كی جانب سے بعض افراد نے امريكہ كے ساتھ مذاكرات كئے ہیں جبكہ یہ بات بالكل جھوٹی ہے اور اب تك كسی نے بھی ايران كے رہبر كی جانب سے امريكہ كے ساتھ مذاكرات نہیں كئے ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمايا: مختلف حكومتوں نے بعض عارضی موضوعات كے بارے میں امريكہ كے ساتھ مذاكرات كئے ليكن ان مذاكرات میں بھی حكومتی افراد رہبری كی ریڈ لائنوں كی رعايت كرنے كے پابند تھے اور آج بھی ریڈ لائنوں كی پابندی ضروری ہے۔۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امريكہ كے ساتھ مذاكرات كے سلسلے میں تيسرے موضوع كی طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا: امريكہ نہیں چاہتا كہ ايران كے ایٹمی مذاكرات كسی منطقی نتيجے تك پہنچ كر اختتام پذير ہوں ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمايا: اگر امريكی حقيقت میں ايران كے ایٹمی معاملے كا حل چاہتے ہیں تو یہ حل بالكل آسان ہے اور وہ یہ ہے كہ وہ پرامن مقاصد كے لئے ايران كے يورينيم افزودہ كرنے كے حق كو تسليم كرلیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس سلسلے میں تشويش دور كرنے كے لئے بين الاقوامی ایٹمی ايجنسی كی نگرانی كو سبب مطمئن عمل قرارديتے ہوئے فرمايا: گذشتہ تجربات سے صاف ظاہر ہوتا ہے كہ امريكہ ایٹمی معاملے كے حل كی تلاش و كوشش میں نہیں ہے بلكہ وہ ايرانی قوم كو مفلوج كرنے اور اس پر دباؤ قائم كرنے كے لئے اس معاملے كو باقی ركھنے كے حق میں ہے ليكن دشمنوں كی آنكھیں اندھی ہوجائیں گی وہ ايرانی عوام كو مفلوج نہیں كرسكیں گے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس سلسلے میں آخری نكتہ كے طور پر امريكيوں كو ايك راہ حل پيش كيا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمايا: اگر امريكی صداقت كے ساتھ تمام معاملات حل كرنا چاہتے ہیں تو راہ حل كے سلسلے میں ہماری تجويز یہ ہے كہ امريكہ اپنی رفتار اور گفتار میں ايرانی قوم كے ساتھ دشمنی ترك كردے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے گذشتہ 34 برسوں میں ايرانی عوام كے خلاف امريكہ كی معاندانہ پاليسيوں اور ان كی شكست و ناكامی كی طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا: اگر امريكہ كی یہ پاليسياں جاری رہتی ہیں تو پھر بھی انھیں شكست ہی نصيب ہوگی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب كے اختتام پر 24 خرداد كو ملك كے صدارتی انتخابات كے اہم موضوع كی طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا: انتخابات سياسی كاميابی ، اسلامی نظام كے اقتدار ، قومی عزم اور نظام كی عزت و آبرو كا مظہر ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انتخابات میں عوام كی وسيع پيمانے پر شركت كو بڑی اہميت كا حامل قرارديتے ہوئے فرمايا: عوام كی انتخابات میں بڑے پيمانے پر شركت سے ملك میں امن و سلامتی اور دشمن كو مايوسی ملے گی اور دشمن كی دھمكياں غير مؤثر ثابت ہوں گی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی نظام پر اعتقاد ركھنے والے تمام سياسی گروہوں كو انتخابات میں شركت كرنے كی سفارش كرتے ہوئے فرمايا: انتخابات كسی خاص سياسی جماعت يا گروہ سے متعلق نہیں ہیں بلكہ ان تمام گروہوں اور احزاب كے لئے انتخابات میں شركت ضروری ہے جن كے دل ملك كے استقلال اور قومی مفادات كے لئے تڑپتے ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمايا: انتخابات سے روگردانی ان لوگوں كے لئے مناسب ہے جو انقلاب كے مخالف ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انتخابات میں عوام كی رائے كو فيصلہ كن قرارديتے ہوئے فرمايا: صدارتی اميدواروں میں اصلح اميدوار كی تشخيص بہت اہم ہے اور لوگوں كو چاہیے كہ قابل وثوق افراد كے ساتھ مشورے كے ذريعہ اصلح اميدوار كا انتخاب كریں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمايا: رہبری كا ووٹ ايك ہے اور كسی كو معلوم نہیں كہ یہ ووٹ كس كو ملےگا اور كسی خاص فرد كے متعلق رہبری كی نظر كے بارے میں ہر قسم كی بات غلط ہوگی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عوام سے سفارش كرتے ہوئے فرمايا: اصلح فرد كی شناخت كے سلسلے میں پروپيگنڈوں اور ايس ايم ايس كے پيغامات سے متاثر نہ ہوں جن كا آجكل كافی رواج ہوگيا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نےسب كو قانون كے سامنے سر تسليم خم كرنے كی سفارش كرتے ہوئے فرمايا: سال 88 كے فتنہ كا آغاز اسی وجہ سے ہوا كہ ايك گروہ نے قانون اور عوام كی رائے كے سامنے تسليم ہونے سے انكار كرديا اور عوام كو تشدد كے لئےسڑكوں پر آنے كی دعوت دی اور یہ ناقابل تلافی جرم تھا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمايا: خوش قسمتی سے شبہات كو دور كرنے كے لئے قانون میں تمام راہیں موجود ہیں لہذا سب كو عوام كی اكثريت آراء كا احترام كرنا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے آئندہ صدر كی خصوصيات كی طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا: آئندہ صدر كو گذشتہ صدر كی تمام خوبيوں كا حامل اور اس كی تمام خاميوں اور كمزوريوں سے دور رہنا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمايا: صدارتی انتخاب میں عوام كا انتخاب بہترين پيشرفت اورشاندار تكامل كا مظہر ہونا چاہیے اور گذشتہ انتخابات كی نسبت اسے زيادہ جوش و ولولہ سے سرشار ہونا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب كے اختتام پر فرمايا: جو لوگ صدارتی انتخابات میں نامزد ہونا چاہتے ہیں انھیں انقلاب اسلامی اور اس كے اقدار كا پابند ہونا چاہیے، انھیں قومی مفادات كی حفاظت كا پابند ہونا چاہیے اور انھیں عقل جمعی باہمی صلاح و مشورے اور تدبير كے ذريعہ ملك كو چلانے كا اعتقاد ركھنا چاہیے۔
1206471
نظرات بینندگان
captcha