حرم مطہر رضوی میں دينی شعائر كی تعظيم اور ميلاد رضوی كے موقوفات پر ايك نظر

IQNA

حرم مطہر رضوی میں دينی شعائر كی تعظيم اور ميلاد رضوی كے موقوفات پر ايك نظر

8:44 - September 28, 2013
خبر کا کوڈ: 2595709
ايران كے موقوفات كی زيادہ تر درآمدات (آمدنی) وقف كرنے والے اہل خير حضرات كی نیّتوں كے مطابق دينی شعائر كی تعظيم اور اسلامی تعليمات و معارف كی نشر و اشاعت كے امور میں كام آتی ہیں ۔
موقوفات سے حاصل ہونے والی درآمد سے مذہبی ثقافتی امور جيسے ايام ميلاد میں جشن كی محافل ،ايام عزا میں عزاداری كی مجالس ،مساجد بنانے اور ان میں ضروری سہوليات فراہم كرنے ،امام بارگاہوں كی تعمير اور قرآن كريم كی طباعت واشاعت میں استفادہ كيا جاتا ہے ۔
شايد یہ كہاجاسكتا ہے كہ ملك بھر كے موقوفات كا نصف سے زيادہ حصہ قرآن كريم كی آیہ مجيدہ’’و من يعظم شعائر اللہ۔۔۔۔‘‘ پر عمل پيرا ہوتے ہوئے مختلف مذہبی،ثقافتی امور میں خرچ ہوا ہے اور اس سے ہدف شعائر الہٰی كی تعظيم ،دينی احكام و معارف كے احياء ،عقائد كی نشرواشاعت اور بہترين مذہبی سنتوں میں وسعت پيدا كرنا ہے ۔ علمی و فرہنگی مراكز میں محفوظ ركھی جانےوالی اسناد و دستاويزات میں وقفی اسناد و دستاويزات ،دينی تہذيب و ثقافت كے ايك گو شے اور دينی معا شرے كے عقائد كے ايك حصے كو بيان كر رہی ہیں ۔
حضرت امام رضا علیہ السلام كے آستان مقدس كے واقفين میں سے ۱۷ افراد نے مختلف زمانوں میں جشن و سرور كے مراسم ومحافل منعقد كرنے كے لیے ۵۷ رقبہ جات مخصوص كیے ہیں ۔
اسلامی اعياد اور جشن و سرور كے مراسم ،حضرت آئمہ اطہار علیہم السلام كے ايام ميلاد اور ان مناسبات پر فقراء اور واقفين يا ان كے ورثاء كی پذيرائی اور كھانا كھلانا ؛وقف كے جملہ مجاز اخراجات و معارف میں سے ہیں جن پر آستان قدس رضوی كے واقفين حضرات كی توجہات رہی ہیں ۔
وقفناموں میں معين كیے گئے اخراجات میں فقراء اور سادات خدّام كو ان كی تنخواہوں كے علاوہ انعام دينے كے عنوان سے عيد غدير كی مناسبت سے عيدی دينا، كم از كم ۱۰۰۰ دينی طلباء كو دوپہر كا كھانا كھلانا ، حضرت امام زمان عجل اللہ فرجہ الشريف كی امامت كے پہلے دن بمطابق ۹ ربيع الاوّل میں جشن و سرور كی محافل حرم مطہر رضوی كے مربلكہ اماكن كے بڑے ہال میں منعقد كرنا اور حضرات آئمہ معصومين علیہم السلام كے ايام میں جشن منانے كے انتظامات شامل ہیں ۔
آستان قدس رضوی كے جملہ موقوفات میں سے ايك بانو كوچك (افخم السلطنہ) كا موقوفہ ہے جو حضرت امام رضا علیہ السلام كے جشن ميلاد سے مخصوص ہے ۔اس كے وقفنامے كے مطابق جو كہ ۱۳۷۵ھ۔ق میں موصوفہ نے آستان قدس رضوی كو وقف كيا ؛واقفہ نے قوچان میں موجود ۲۹۵ نمبر بلاك میں سے متعدد رقبہ جات ان كے متعلقات و ملحقات كے ساتھ حضرت امام رضا علیہ السلام كے يوم ولادت باسعادت كی مناسبت سے ۱۱ ذيقعد كے دن كے دسترخوان كے لئے وقف كیے ہیں تاكہ آستان قدس رضوی كے متبركہ اماكن میں امام ہشتم علیہ السلام كا شايان شان جشن ِ ميلاد ۳ شعبان المعظم كے جشن ميلاد كی طرح عاليشان انداز میں برپا كيا جائے۔
حضرت امام علی علیہ السلام ،حضرت امام حسين علیہ السلام ،حضرت امام رضا علیہ السلام اور حضرت صاحب الزمان عجل اللہ فرجہ الشريف كے ايام ميلاد میں پُر شكوہ جشن منعقد كرنا واقفين حضرات كے وقفناموں میں تاكيد كے ساتھ مذكور ہے اور الحمد للہ ہر سال ان كی نيتوں كے مطابق بطور احسن یہ جشن منعقد ہو رہے ہیں ۔
حضرت امام رضا علیہ السلام كے يوم ميلاد كے خصوصی موقوفات
آستان قدس رضوی كے ہزاروں كی تعداد میں موقوفہ رقبات میں سے ۱۴ واقفين نے مختلف شہروں میں اپنے اموال حضرت امام رضا علیہ السلام كے ميلاد كے جشن منعقد كروانے كے لئے اس مقدس آستان پر وقف كیے ہیں ۔
ميرزا محمود خان نوری،حاج حسين ملك ،بانو كوچك آقا صنيعی،ميرزا حسين جعفری،بانور بابہ،آقائے باقری طرز جانی ،بانو صغریٰ رہنما،حسيم شير بيگی پور،محمد محمدی پور دقدق آباد ،علی رضايت بخش راوری،ابراہيم محيی الدينی راوری،حسين رستمی راوری،حاج محمد علی خاموشی،قاسم نگارستانی اور صغریٰ دہقان منشادی،ايسے خوش نصيب واقفين ہیں جنہوں نے امامت و ولايت كے آٹھویں درخشندہ ستارے حضرت امام رضا علیہ السلام كے يوم ولادت با سعادت كی مناسبت سے ۱۱ ذيقعد كے جشن كی محافل منعقد كروانے كے لئے اپنے اموال و رقبہ جات آستان قدس رضوی پر وقف كیے ہیں ۔
حضرت امام رضا علیہ السلام كے جشن ميلاد كے لئے وقف كرنے والے رقبہ جات میں اسلامی پُر شكوہ انقلاب كی كاميابی كے بعد اس پسند يدہ سنت كو تسلسل بخشنے والے ۱۱ واقفين شامل ہیں تاكہ امام ہشتم علیہ السلام كے جشن ميلاد بہترين انداز میں مشہد مقدس ،راورد ،كرمان ،يزد،رفسنجان اور تہران میں منعقد كیے جائیں اور قابل ِ ذكر ہے كہ ان خوش نصيبوں میں ۴ خواتين نے انہیں جشن ہائے ميلاد رضوی كے لئے اپنے اموال اسی مقدس آستان پر وقف كیے ہیں۔
نظرات بینندگان
captcha