ایکنا نیوز- قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیئر رہنما سید خورشید شاہ کی سربراہی میں تقریباً تمام اپوزیشن رہنما اور چند حکومتی بینچ کے ارکان جیسا کہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی بھی کہہ چکے ہیں کہ کسی ایک فریق کے حق میں موقف اپنانے سے ملک میں بدامنی پیدا ہوگی۔
اسی طرح سعودی عرب اور ایران کے سفیروں سے ملاقات کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کا بھی کہنا تھا کہ حکومت کو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔
اگر وزارت داخلہ کے جانب سے حالیہ جاری اطلاعات کا بغور جائزہ لیا جائے تو سیاسی رہنماؤں کے یہ خدشات صحیح معلوم ہوتے ہیں۔
ڈان نیوز کے مطابق وزارت داخلہ کی جانب سے غیر ملکی فنڈز حاصل کرنے والے مدارس کی فہرست سے معلوم ہوتا ہے کہ 285 میں سے تقریباً ایک تہائی مدارس ایسے ہیں جنہیں ایک ہمسایہ ملک اور عراق سے مالی مدد فراہم کی جاتی ہے، جبکہ دو تہائی مدارس کو خلیجی اور عرب ممالک یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر سے فنڈز حاصل ہوتے ہیں۔
صوبہ پنجاب میں تقریباً 147 مدارس ایسے ہیں، جو مشرق وسطیٰ کے ممالک کی مالی مدد سے چلتے ہیں، جن میں سے 25 کو ہمسایہ ملک جبکہ دیگر کو سعودی بلاک کے ممالک سے فنڈز ملتے ہیں۔
نیم خود مختار گلگت بلتستان میں 95 مدارس ایسے ہیں جنہیں مسلسل غیر ملکی مالی مدد حاصل ہے، ان میں ایک تہائی مدارس کو سعودی عرب جبکہ دیگر کو ہمسایہ ملک سے فنڈز ملتے ہیں۔
صوبہ بلوچستان میں غیر ملکی فنڈز سے چلنے والے 30 مدارس ہیں، جن میں 25 کو سعودی عرب جبکہ دیگر کو ایک ہمسایہ ملک سے مالی مدد حاصل ہوتی ہے۔
حیرت انگیز طور پر وزارت داخلہ کی اس فہرست میں صوبہ خیبر پختونخوا سے صرف 12 ایسے مدارس کے نام سامنے آئے ہیں جنہیں غیر ممالک سے مالی مدد حاصل ہوتی ہے اور ان تمام مدارس کو سعودی عرب یا کویت سے فنڈز حاصل ہوتے ہیں۔
صوبہ سندھ میں صرف ایک مدرسہ سامنے آیا جسے غیر ملک سے مالی مدد ملتی ہے۔ اورنگی ٹاؤن میں واقع مدرسہ امیر دولت قطر و دارالعلوم حنفی جس زمین پر قائم ہے وہ 40 سال قبل قطر کی جانب سے عطیہ کی گئی تھی اور آج وہاں تقریباً 500 طالبات زیر تعلیم ہیں۔ اس مدرسے کو اب بھی قطر سے مالی مدد حاصل ہے۔
رپورٹ میں چند ایسے کیسز کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن میں مذہبی اسکالرز نے فنڈز حاصل کرنے کے مقاصد سے باقاعدگی سے غیر ملکی دورے کیے۔
ایسے زیادہ تر کیسز میں ان مدارس کو غیر ممالک سے کتنی رقم حاصل ہوئی، رپورٹ میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا اور معلومات کا یہی فقدان حکومت کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کے تحت مدارس کو ریگولیٹ کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔