ایکنا نیوز- اسلام ٹایمز- نیشنل ایکشن پلان کے بیس نکات میں سے صرف ایک پر بھی عمل ہوا ہوتا تو ملک کے حالات آج یہ نہ ہوتے، ملک میں رائج موروثی سیاست نے ہماری سیاسی کلچر کو پراگندہ کیا ہوا ہے، عوام کے ایشوز پر کوئی بات نہیں کرتا، محض ایک گانا بنا کر ہم ان دہشتگردی کے واقعات سے آنکھیں نہیں چرا سکتے، استاد اگر اسلحہ اٹھا لیں تو تعلیم کون دے گا، قوم کو کس طر ف راغب کیا جارہا ہے، صرف آپریشن اس قسم کے نتیجے نہیں دے سکتے، جس کی پاکستان کو ضرورت ہے، جب تک دہشتگرد بنانے کی فیکٹریوں کو ختم نہیں کیا جاتا، دہشتگردی کا سدباب نا ممکن ہے، جب تک عوام خوشحال نہیں ہونگے انتہا پسندی کو فروغ ملے گا، ان خیالات کا اظہار انھوں نے نو منتخب جنرل سیکرٹری نیشنل پریس کلب اسلام آباد سید دستار علی شاہ کی اقامت گاہ ٹیکسلا میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا۔
ریحام خان کا کہنا تھا کہ سب لوگ جانتے ہیں کون کرپٹ اور کون نااہل ہے خواتین اور نوجوانوں کے حقیقی تبدیلی کے لئے آگے آنا ہوگا، انکا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے واقعات میں پوری انسانیت کا قتل ہو رہا ہے، اے پی ایس کے بعد اب دوسرا بڑا سانحہ باچا خان یونیورسٹی میں رونما ہوا، جو ہائی جیک کئے جارہے ہیں وہ بھی ہمارے بچے ہیں انکا کہنا تھا کہ انصاف شروع ہوتا ہے خوشحالی سے جس معاشرے میں انصاف ناپید ہوگا وہاں انتہا پسند سوچ پروان چڑھے گی، آج دیکھیں ہمارے بچوں کو کس قسم کا نصاب پڑھایا جارہا ہے، ملک میں شریعت نافذ کرنے پر اقلیتوں کو بھی کوئی اعتراز نہیں کیونکہ اس میں ان کے حقوق کا زیادہ تحفظ ہے، مگر افسوس یہاں تو اسلام کو بھی سیاست کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ دہشتگردی کو روکنے کی بجائے بڑی سیاسی جماعتیں انھیں اپنے ووٹ بنک کو بڑھانے میں استعمال کر رہی ہیں۔ہم ایک ایسا شلٹر بنانا چاہتے ہیں جہاں کمسن بچوں کو معیاری تعلیم میسر آئے، انکا کہنا تھا کہ آج 13 ماہ گزر گئے مگر آج تک نیشنل ایکشن پلان کے بیس نکات تو کجا ایک پر بھی عمل نہ ہوسکا، نہ مدارس کے فنڈز روکے گئے، اگر سب کچھ مسلح افواج پر چھوڑ دیں گے تو صرف آپریشن ہی ہونگے، جس کے نتائج سے پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، دراصل دہشتگرد بنانے والی فیکٹریوں کو ختم کرنا ہوگا، تب ہی ملک سے دہشتگردی کی لعنت کا خاتمہ ممکن ہے.