ایکنا نیوز- العالم نیوز کے مطابق آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کے بھائی نے شیخ نمر سے آخری ملاقات کے بارے میں کہا : میں ، میری والدہ، میری بہین سکینہ اور شیخ نمر کی بیٹی صبح سویرے ریاض جیل پہنچے مگر انہوں نے بارہ بجے تک ہمیں روکے رکھا، میری والدہ اور بھائی ابو موسی شدید اضطرابی حالت میں تھے
انہوں نے ٹویٹر
پر مزید لکھا ہے : ہم ملاقات والے کمرے میں گیے مگر ہر دفعہ کے برعکس اس بار وہ
شیخ نمر کو پہلے ہی سے ملاقات کے لیے لے آئے تھے
شیخ نمر نے میری ماں کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے اور احوال
پرسی کے بعد کہا : الحمد لله ربالعالمین. وہ قید ہونے کے بعد اکثر اس جملے
کو ادا کرتے ،اسکے علاوہ بہت زیادہ شہادت کی دعا کرتے اور بلاآخر اس درجے کو حاصل
کرنے میں کامیاب بھی ہوئے۔
محمد النمر کا کہنا ہے: ہم نے حال پوچھا تو کہا : الحمد لله، میں بالکل ٹھیک ہوں،
اور اپنے فالج زدہ پاوں کے بارے میں بھی اطمینان دلایا ۔ ہم نے انکے دوستوں کا
سلام پہنچایا تو اس نے بھی سب کو یاد کیا اور نام لیکر سلام کہا
شیخ نمر نے چھ افراد کا نام لیکر دعا کی جنکو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے ان میں
المرهون، الشیوخ، الربح، الصویمل اور شیخ کا بیٹا علی نمر شامل ہے.
محمد النمر نے کہا کہ میں نے پوچھا آپکے کچھ دوست صلح و دوستی کے حوالے سے پوچھنا
چاہتے ہیں کہ ہم کیا کریں تو شیخ نمر نے جواب دیا معاشرے میں امن و محبت اور صلح
ضروری ہے
محمد النمر کے مطابق اس دو گھنٹے کی ملاقات میں شیخ نمر نے قرآن کی تلاوت، حفظ اور
قرآن فہمی پر خاص تاکید کی اور پتہ چلا کہ انہوں نے آخری مہینے میں قرآن مجید کا
حفظ بھی مکمل کرلیا تھا
محمد النمر نے کہا کہ خداحافظی کے وقت میں نے آہستہ سے کہا کہ سنا ہے کہ آپکے
لوگوں کےکیس بھی دوبارہ غور ہوگا تو کہا مجھے چھوڑ دو اور باقی افراد کے بارے میں
جستجو کرو،تم اور میرے وکیل محمد الجبران میرے تمام چیزوں کے بارے میں صاحب اختیار
ہے مگر میری عزت اور خبردار میری عزت کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہ کرنا