شیخ نمر نے آخری وقت میں حفظ قرآن مکمل کرلیا تھا

IQNA

شیخ نمر نے آخری وقت میں حفظ قرآن مکمل کرلیا تھا

7:49 - January 24, 2016
خبر کا کوڈ: 3500173
بین الاقوامی گروپ: شیخ نمر کے بھائی کا کہنا ہے کہ آخری ملاقات میں بھائی سے معلوم ہوا کہ انہوں نے زندگی کے آخری مہینے میں حفظ قرآن مکمل کرلیا تھا

ایکنا نیوز- العالم نیوز کے مطابق آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کے بھائی نے شیخ نمر سے آخری ملاقات کے بارے میں کہا : میں ، میری والدہ، میری بہین سکینہ اور شیخ نمر کی بیٹی صبح سویرے ریاض جیل پہنچے مگر انہوں نے بارہ بجے تک ہمیں روکے رکھا، میری والدہ اور بھائی ابو موسی شدید اضطرابی حالت میں تھے

انہوں نے ٹویٹر پر مزید لکھا ہے : ہم ملاقات والے کمرے میں گیے مگر ہر دفعہ کے برعکس اس بار وہ شیخ نمر کو پہلے ہی سے ملاقات کے لیے لے آئے تھے

شیخ نمر نے میری ماں کو دیکھا تو بہت خوش ہو
ئے اور احوال پرسی کے بعد کہا : الحمد لله رب‌العالمین. وہ قید ہونے کے بعد اکثر اس جملے کو ادا کرتے ،اسکے علاوہ بہت زیادہ شہادت کی دعا کرتے اور بلاآخر اس درجے کو حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوئے۔



محمد النمر کا کہنا ہے: ہم نے حال پوچھا تو کہا : الحمد لله، میں بالکل ٹھیک ہوں، اور اپنے فالج زدہ پاوں کے بارے میں بھی اطمینان دلایا ۔ ہم نے انکے دوستوں کا سلام پہنچایا تو اس نے بھی سب کو یاد کیا اور نام لیکر سلام کہا



شیخ نمر نے چھ افراد کا نام لیکر دعا کی جنکو پھانسی کی سزا سنا
ئی گئی ہے ان میں المرهون، الشیوخ، الربح، الصویمل اور شیخ کا بیٹا علی نمر شامل ہے.

محمد النمر نے کہا کہ میں نے پوچھا آپکے کچھ دوست صلح و دوستی کے حوالے سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ ہم کیا کریں تو شیخ نمر نے جواب دیا معاشرے میں امن و محبت اور صلح ضروری ہے
محمد النمر کے مطابق اس دو گھنٹے کی ملاقات میں شیخ نمر نے قرآن کی تلاوت، حفظ اور قرآن فہمی پر خاص تاکید کی اور پتہ چلا کہ انہوں نے آخری مہینے میں قرآن مجید کا حفظ بھی مکمل کرلیا تھا
محمد النمر نے کہا کہ خداحافظی کے وقت میں نے آہستہ سے کہا کہ سنا ہے کہ آپکے لوگوں کےکیس بھی دوبارہ غور ہوگا تو کہا مجھے چھوڑ دو اور باقی افراد کے بارے میں جستجو کرو،تم اور میرے وکیل محمد الجبران میرے تمام چیزوں کے بارے میں صاحب اختیار ہے مگر میری عزت اور خبردار میری عزت کے حوالے سے کو
ئی فیصلہ نہ کرنا

محمد نمر کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ بجے ہم باہر نکلے اس امید کے ساتھ کہ پھر ملاقات ہوگی، مگر میرے بھائی جعفر آہستہ سے کہہ رہا تھا کہ یہ آخری ملاقات ہوگی۔ ہم نے دو بجے سترہ ربیع الثانی کے لیے دوبارہ ملاقات کا ٹائم لیا مگر ہماری ملاقات سے پہلے شیخ نمر اپنے رب کی ملاقات کوچلے گئے تھے۔
نظرات بینندگان
captcha