ایکنا نیوز- العالم نیوز کے مطابق تیرہ ہزار افراد کی داڑھیاں مونڈھ دی گئیں ہیں جبکہ خواتین سے چادر چھینی جارہی ہے
تاجیکستان حکام
کا دعوی ہے کہ بیگانہ ثقافت اور شدت پسندی کے چھٹکارے کے لیے اقدام کیا گیا ہے اور
اس حوالے سے ایک سو ساٹھ سے زائد اسلامی لباس اور اسکارف
بیچنے والے دکانوں کو بھی سیل کیا گیا ہے
رپورٹ کے مطابق جس شخص کی داڑھی بلند ہو اسے زبردستی داڑھی مونڈھنے پر مبجور کیا
جاتا ہے
گذشتہ ہفتے کو پارلیمنٹ میں ایک قرار داد پاس کیا گیا جسکے مطابق آئندہ اس ملک میں
عربی نام رکھنے پر پابندی ہوگی اگرچہ اس وقت «محمد» نام سب سے زیادہ بچوں کے لیے رکھا جارہا
ہے
اس وقت تک دو ہزار تاجیک باشندے داعش میں شامل ہوچکے ہیں
ستمبر 2015 کو تاجیکستان کی واحد اسلامی پارٹی پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے اورصدر
امامعلی رحمان، جو 1994 سے برسراقتدار ہے اس وقت ملک کو سیکولر کرنے پر کام کررہا
ہے گرچہ عوام کی اکثریت مسلمان ہیں۔