ایکنا نیوز- روزنامه «ٹرامپٹ» کے مطابق لیبیا میں عدم استحکام کے باعث اور اسمیں تیل کے زخایر کی وجہ سے داعش اب شمالی افریقہ کی اس کمزورملک کی جانب للچایی نظروں سے دیکھ رہی ہے
معمر قذافی کی
حکومت کے خاتمے کے بعد یہ ملک میدان جنگ میں تبدیل ہوچکا ہے اور اس ملک میں مختلف
گروپس اور تکفیری تنظمیں آپس میں برسرپیکار ہیں اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے داعش ساحلی
شہروں جسیے
«سرت»، «بن جواد» اور «درنا» پر کنٹرول حاصل کرچکی ہے۔
حال ہی میں پانچ سو داعش عناصر اس ملک میں پہنچ چکے ہیں اور اقوام متحدہ کی رپورٹ
کے مطابق اس ملک میں 3000 دہشت گرد عناصر موجود ہیں جبکہ ایک اور زرائع کے مطابق دہشت
گردوں کی تعداد 10000 سے بھی زیادہ ہے
سال 2015 میں بہت سے دہشت گرد داعش سے وابستہ گروپ «انصار الشریعه» کے ممبر تھے
اور گذشتہ ہفتوں میں مزید دو شدت پسند گروپ « اجدابیا انقلابی کونسل» اورایک گروپ
مصراته میں داعش کے ساتھ الحاق کر چکا ہے
اس سال کے آغاز سے دو تیل کے ذخائر « Es Sider» اور « Ra’s Lanuf » پر
کیی بار داعش حملہ کرچکی ہے