بین الاقوامی گروپ: روس کے وزیر خارجہ نے شام میں جنگ بندی کو انتہائی مشکل قرار دیا ہے۔
ایکنا نیوز- سحرٹی وی -جمعے کو میونیخ میں ہونے والے اجلاس کے بعد روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے کہا کہ جنگ بندی پر اتفاق رائے کے باوجود ، اس پر عمل درآمد کی راہ میں ٹھوس رکاوٹیں پائی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں جنگ بندی کے نفاذ کے لئے واضح نظام الاوقات طے کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام میں اس وقت تک جنگ بند نہیں ہوسکتی جب تک جنگ میں الجھے فریقوں پر اثر و رسوخ رکھنے والے ان پر دباؤ نہیں ڈالتے۔ روسی وزیر خارجہ نے ایک بار پھر یہ بات زور دیکر کہی کہ شام کے صدر بشار اسد کی اقتدار سے علیحدگی کو امن سے مشروط کرنے کے والے خوابوں کی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شامی فوج نے روس کے تعاون سے حلب کے مشرقی علاقوں کا محاصرہ ختم کرادیا ہے جبکہ حلب کے مغربی نواحی علاقے بدستور جبہۃ النصرہ اور جیش الاسلام کے قبضے میں ہیں۔ روسی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ حلب کے اطراف میں شامی فوج کے خلاف لڑنے والے دہشت گردوں کو ترکی کی جانب سے رسد فراہم کی جا رہی ہے۔ روس کے وزیر خارجہ نے یاد دہانی کرائی کہ اقوام متحدہ کی قرارداد بائیس چوّن میں دہشت گرد گروہوں کی کسی بھی قسم کی مدد اور حمایت کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔