ایکنا نیوز- اسلام ٹایمز سے گفتگو میں علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے سانحات تسلسل کیساتھ ہو رہے ہیں، البتہ کچھ عرصہ میں اس سلسلہ میں کمی تو آئی ہے، تاہم ہم نے دیکھا کہ چھلگری میں ایک المناک سانحہ ہوا، بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی یہی صورتحال ہے، خاص طور پر شب عاشور کو جیک آباد میں جو واقعہ ہوا، حال ہی میں ڈی آئی جی لاڑکانہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے جن دہشتگردوں کی نشاندہی کی، ان میں سے خودکش بمبار خضدار سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا سہولت کار اور نیٹ ورک مستونگ سے ہے۔ تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردوں کا نیٹ ورک اب بھی موجود ہے، اور خاص طور پر مستونگ دہشتگردوں کا گڑھ بن چکا ہے، مستونگ سے پلنے والے اور ٹریننگ حاصل کرنے والے دہشتگرد نہ فقط بلوچستان میں معصوم لوگوں کا قتل عام کر رہے ہیں بلکہ سندھ کے مختلف علاقوں میں داخل ہوکر سندھ میں دہشتگردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ لہذا ہم سمجھتے ہیں کہ مستونگ کے اندر فوری طور پر آپریشن کی ضرورت ہے۔ وہاں لشکر جھنگوی کے ٹریننگ کیمپس ہیں، جب تک ان اڈوں کو ختم نہیں کیا جاتا، اس وقت تک یہ خطرہ اپنی جگہ پر موجود ہے، بات یہ ہے کہ جیکب آباد سانحہ کی پلاننگ کوئٹہ کے ایک مدرسہ میں ہوئی، یہاں کی انتظامیہ نے کوئٹہ کے 11 مدارس کی نشاندہی کی ہے، جو دہشتگردوں کی ٹریننگ میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے حال ہی میں کچھ مدارس کو سیل بھی کیا گیا ہے اور ایک کالعدم جماعت کے دہشتگرد مولوی رمضان مینگل کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، کیونکہ اس کا نام بھی ان دہشتگردوں کی مالی سپورٹ کے حوالے سے سامنے آیا ہے، تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ نیٹ ورک اپنی جگہ موجود ہیں، خطرہ ابھی ٹلا نہیں بلکہ اپنی شدت کیساتھ موجود ہے۔انکا کہنا تھا ، توقع تو یہ تھی کہ آپریشن ضرب عضب کے بعد جو قومی ایکشن پلان ترتیب دیا گیا، اس سے دہشتگردی کی لہر میں کمی آئے گی، ان کے جو ٹریننگ کیمپس ہیں یا جو دہشتگردوں کی نرسریاں ہیں، ان کو روکنے میں مدد ملے گی، لیکن افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے حکمران اپنے مفادات کیلئے نیشنل ایکشن پلان کو غلط رخ دے رہے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے باوجود بلوچستان کے چپے چپے پر آپ کو کالعدم جماعتوں کے جھنڈے نظر آئیں گے، ایسے مدارس نظر آئیں گے، جہاں مذہبی منافرت اور دہشتگردی کی تعلیم دی جاتی ہے، نیشنل ایکشن پلان کے باوجود کالعدم جماعتوں کی نفرت انگیز تقریریں اور جلسے جلوس جاری ہیں، اخباری بیانات کے ذریعے دہشتگردوں کی حمایت کا سلسلہ جاری ہے، نیشنل ایکشن پلان کے باوجود اس کی پابندی نظر نہیں آرہی۔ تو اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر بلوچستان میں عملدرآمد نہیں ہو رہا، میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے جو کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، ان میں آرمی کے کور کمانڈرز بھی بیٹھتے ہیں، گورنر اور وزیراعلٰی بھی، ان سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے جو سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، اس پر ایکشن لیں اور اسے درست طور پر نافذ کیا جائے۔