ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «العالم» کے مطابق قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کے خصوصی معاون «محمد اسماعیل»،
نے نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں دعوی کیا کہ لبنانی شیعہ لیڈر امام «موسی صدر» اور لیبیا کے ڈیکٹیڑ قذافی میں لبنانی شیعوں کے حوالے سے شدید بحث اور جھگڑے کے بعد قذافی نے انہیں قتل کرکے لاش دریا برد کرنےکا حکم دیا تھا.
اسماعیل نے اس گفتگو میں کہا کہ قذافی کا خاندان
اس قتل میں ملوث نہیں البتہ حکومت میں شامل اہم افراد کے کہنے پر انہیں قتل کیا
گیا ہے
انکا کہنا تھا کہ عوام کو دھوکہ دینے کے لیے کہا گیا کہ امام «موسی صدر» لیبیا سے نکل کر اٹلی چلا گیا ہے
31 اگست 1978 کو آخری بار امام «موسی صدر» کو دیکھا گی جب وہ سرکاری پروٹوکول کے ساتھ قذافی سے ملاقات کے لیے
جارہے تھے اور اسکے بعد سے اب تک ان کے زندہ رہنے یا شہادت کے حوالے سے کسی کو
درست اطلاع نہیں ملی ہے.
لیبیا کی حکومت نے دعوی کیا تھا کہ وہ اسی دن
شام کو پروا ۸۸۱ کے ساتھ اٹلی چلا گیا ہے مگر تحقیقات کے بعد اٹلی حکومت نے واضح
کیا تھاکہ موسی صدر اٹلی نہیں آئے تھے ۔