ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق ہندوستانی وزیراعظم نے ورلڈ صوفی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوفیزم امن، بقائے باہمی، ہمدردی، مساوات اور عالمی بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ "جب ہم اللہ کے 99ویں ناموں کے بارے میں سوچتے ہیں تو اس میں سے کوئی بھی طاقت اور تشدد کے حوالے سے نہیں ہے، اللہ کے پہلے دو ناموں کے معنی شفقت اور رحم کرنے والا، اللہ، رحمٰن اور رحیم ہے"۔
خطاب کے دوران نریندر مودی نے دنیا میں مذہب کے نام پر دہشت گردی پھیلانے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ "وہ جو مذہب کے نام پر دہشت گردی پھیلا رہے ہیں وہ مذہب کے مخالف ہیں، دہشت گردی کے خلاف لڑائی کسی مذہب کے خلاف نہیں ہے ، یہ نہیں ہوسکتی"۔
صوفیوں کی تعریف کرتے ہوئے نریندر مودی کا کہنا تھا کہ "جس وقت تشدد کے کالے اندھیرے چھانے لگیں گے آپ اس میں اُمید کی کرن ہونگے"۔
پنجاب کے صوفی بزرگ شاعر، انسایت دوست اور فلسفی بابا بلے شاہ کے حوالے سے نریندر مودی نے کہا کہ "بلے شاہ کی دانائی میں خدا ہر ایک کے دل میں رہتا ہے، ان کے اقدار ہمارے وقت کی ضرورت ہیں، یہ قدرت کی حقیقت ہے"۔
ان کا کہنا تھا کہ "آپ مختلف علاقوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھتے ہیں اور یہاں آئے ہیں لیکن آپ سب کا ایک ہی عقیدہ ہے"۔
مودی نے مزید کہا کہ سب کو خدا نے پیدا کیا ہے اور اگر ہم خدا سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اس کی بنائی ہوئی ہر چیز سے محبت کرنا چاہیے۔