بین الاقوامی گروپ: فرقہ واریت کے نام پر ہزاروں شہریوں کو مارا گیا، جس میں محب وطن اہل تشیع مسلمان سب سے زیادہ دہشتگردی کا نشانہ بنے
ایکنا نیوز- اسلام ٹایمز سے گفتگو میں سندھ شیعہ علما کونسل کے صدر سید ناظر عباس تقوی نے کہا کہ ہم سانحہ لاہور گلشن اقبال پارک کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، سانحہ لاہور سمیت اس طرح کے دیگر واقعات حکومت اور ریاست کی غفلت کا نتیجہ ہیں، اس ملک میں ایجنسیوں کا وسیع تر نیٹ ورک ہونے کے باوجود اس طرح کے واقعات ایجنسیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، سانحات ہونے کے بعد اس واقعے کی تحقیقات کرنا، کمیشن قائم کرنا، یہ سب عوام کو دھوکہ دینے کی باتیں ہیں، آج تک کسی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سانحات کے ہونے سے پہلے دہشت گردوں کو گرفتار کرکے مظلوم عوام کو بچایا جاتا، لیکن افسوس کہ سینکڑوں جانیں ضائع ہونے کے بعد لکیروں کو پیٹنا ہمارا شیوہ بن چکا ہے، نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن ضرب عضب کے باوجود اس طرح کے واقعات کا ہونا بہت سارے سوالات پیدا کرتے ہیں، یہ بات خارج از امکان نہیں ہے کہ اس واقعے کے پیچھے بیرونی ہاتھ بھی ہو، سانحہ لاہور اس وقت ہوا کہ جب جمہوری اسلامی ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی پاکستان کے دورے سے واپس گئے، کچھ اندرونی و بیرونی قوتیں نہیں چاہتی ہیں کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات بہتر اور مستحکم ہوں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے راستے بحال ہوں۔ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان بنیادی مقاصد طور پر دہشتگردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے بنایا گیا تھا، لیکن بنیادی ترجیحات سے اس کا رخ مختلف غیر اہم سمتوں میں موڑ دیا گیا، نیشنل ایکشن پلان میں اس تشخص کا خیال نہیں رکھا گیا کہ کون قاتل ہے اور کون مقتول ہے، کون مظلوم ہے اور کون ظالم ہے اور جب یہ فرق ہی مٹا دیا گیا، تو دہشتگردوں کے ساتھ ساتھ بے گناہ معصوم شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، سابقہ ملک میں رائج توازن (balance) کی پالیسی اپنائی گئی، کہ یہاں سے بھی پانچ اٹھاؤ اور وہاں سے بھی پانچ اٹھاؤ، اسی وجہ سے نیشنل ایکشن پلان متنازعہ ہونے لگا، ہم نے بارہا حکمرانوں اور اداروں کو اس جانب متوجہ کیا، لیکن اسے نظر انداز کیا گیا، پھر نیشنل ایکشن پلان کے تحت کچھ لوگوں کو پھانسی دی گئی، اس میں بھی مخصوص کارروائیوں میں ملوث افراد کو پھانسی دی گئی، یعنی جن افراد نے مخصوص اداروں پر حملہ کیا، ان حملوں میں ملوث افراد کو پھانسیاں دی گئیں، لیکن فرقہ واریت کے نام پر ہزاروں شہریوں کو مارا گیا، جس میں محب وطن اہل تشیع مسلمان سب سے زیادہ دہشتگردی کا نشانہ بنے، سانحہ بابوسر، چلاس کے واقعات، کوہستان کے واقعات، بسوں سے اتار کر، شناختی کارڈ دیکھ کر شیعہ مسلمانوں کو شہید کیا گیا، ہزارہ ٹاؤن کے واقعات، سانحہ عاشور، سانحہ اربعین کراچی، سانحہ شکار پور، سانحہ جیکب آباد، کن کن واقعات کا ذکر کیا جائے، یہ اتنے سنگین دہشتگردانہ واقعات ہوئے، ان کے قاتل کہاں ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق بینک ڈکیتی کے دوران، موبائل چھیننے کے دوران قتل کرنے والوں کو تو پھانسی دے دی گئی، لیکن ان بڑے بڑے سانحات میں کون ملوث تھے، کون سی طاقتیں ان کو سرمایہ، تحفظ اور سہولتیں فراہم کرتی تھیں، حکومتیں، ریاستی ادارے، ایجنسیاں، کمیٹیاں یہ سب بتانے سے قاصر ہیں، کوئی ان سوالات کا جواب دینے والا نہیں ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ محرم الحرام میں نیشنل ایکشن پلان کے رخ کو عزاداری سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے خلاف، اسلام آباد کے مرکز میں، اہم مرکزی شاہراؤں سمیت ملک بھر کے شہروں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے دھرنے احتجاج ہوئے، ڈھول باجے، ناچ گانے کے ساتھ ساتھ لاؤڈ اسپیکر کا کھلا استعمال کیا گیا، نیشنل ایکشن پلان کے لاؤڈ اسپکر ایکٹ پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا، لیکن اس سال عزاداری سیدالشہداؑ کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے رخ کو انتہائی منظم انداز میں منصوبہ بندی کے ساتھ موڑا گیا، لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کے تحت مجالس و عزاداری کے دیگر اجتماعات کو روکا گیا، لیکن دوسری جانب جن مساجد و درسگاہوں سے لاؤڈ اسپیکر پر کھلے عام کلمہ گو مسلمانوں کو کافر قرار دینے پر مبنی فتوے دیئے جاتے رہے، ان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، لہٰذا نیشنل ایکشن پلان انتہائی متنازعہ ہوتا جا رہا ہے۔ مدارس کی اسکینگ کے حوالے سے بھی ظالم اور مظلوم کو ایک ہی کٹہرے میں لا کر کھڑا کر دیا گیا، جو مدارس دہشتگردی میں ملوث نہیں تھے، ان کے خلاف بھی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، جو نیشنل ایکشن پلان کے بنادی مقاصد کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔