ایکنا نیوز- انڈی پینڈنٹ کے مطابق چارلی ابدو نے «ہم یہاں کیسے ختم ہوئے؟» میں مقالہ نگار تجو کول نے اسلامی معاشرے کو مورد الزام ٹھراتے ہوئے کہا کہ یورپی مسلمان داعش کے ہمفکراور ہم خیال ہیں اور یورپ کے لیے حجاب اور برقع کا تحمل کرنا مزید ممکن نہیں رہا ہے۔
انہوں نے کہا : چارلی ابدو کی پالیسی یہ ہے کہ کوئی مسلمان گناہ کار نہیں اور سبکے خلاف حتی وہ لوگ جو خاموش ہیں انکے خلاف بھی کاروائی کی جا ئے۔
اس مقالے پر شدید اعتراضات کیے جارہے ہیں اور چارلی ابدو کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔