ایکنا نیوز- شفقنا- بلقانی ریاست میں خواتین پر مکمل برقع اوڑھنے پر اپنی نوعیت کی یہ پہلی پابندی ہے اور قریباً ستر ہزار آبادی والے اس قصبے میں تمام سیاسی گروپوں سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں نے اس کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
اس قصبے میں مسلم روما خواتین میں مکمل برقع اوڑھنے کا رجحان عام ہوتا جارہا تھا،مسلمان بلغاریہ کی کل 72 لاکھ آبادی کا 12 فی صد ہیں جن میں زیادہ تر یہاں صدیوں سے آباد ترک نسل سے تعلق رکھنے والے مسلمان ہیںجن کی خواتین میں چہرے کا پردہ یا مکمل برقع عام نہیں ہے۔
مئیر پوپوف کا کہنا ہے کہ برقع اوڑھنے پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والی خواتین پر جرمانہ عائد کیا جائے گا،پولیس کا موقف ہے کہ برقع والی خواتین کی فوری شناخت میں مشکل ہوتی ہے کیونکہ ان کی صرف آنکھیں ہی نظر آتی ہیں۔
روما اقلیت سے تعلق رکھنے والے مسلمان قدامت پسندی پر عمل پیرا ہیں اور ان کی خواتین نے حالیہ برسوں کے دوران مکمل برقع اوڑھنا شروع کردیا ہے۔
خواتین کے مکمل برقع اوڑھنے پر پابندی والے معاملے پر پزاردڑیک کے قوم پرستوں اور دوسرے مکینوں نے اپنے مخالفانہ ردعمل کا اظہار کیا تھا۔