ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «مرأة البحرین» کے مطابق آل خلفیہ شیعوں کے خلاف مظالم چھپانے اور توجہ ہٹانے کے غرض سے دیگر امور کا سہارا لے رہی ہے اور تازہ ترین کوشش میں انہوں نے آرتھوڈکس مسلک کے لیے کلیسا کی زمین فراہم کرنے کا حکم دیا ہے
قابل ذکر ہے کہ بحرینی بادشاہ «حمد بن عیسی آلخلیفه» ایک طرف کلیسا کی زمین فراہم
کررہا ہے مگر انہیں کے حکم سے سال ۲۰۱۱ میں ۳۸ شیعہ مساجد اور امام بارگاہ تباہ
کردیے گیے تھے.
عیسائی راہب «رویس جورج»، نے کہا کہ «حمد بن عیسی آلخلیفه»،نے «منامه»، ڈیڑھ ہزار عیسائی آبادی کے لیے زمین فراہم کرنے کا حکم دیا ہے
شیعوں پر زمین تنگ کرنے والے بحرینی حکام ان اقدامات سے عالمی برادری کی توجہ شیعوں پر مظالم سے ہٹانے اور خود کو روشن فکر کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔
آل خلیفہ عناصر ملک کی اسی فیصد شیعہ آبادی پر ہرطرح سے مظالم ڈھا رہی ہے اور گھروں پر حملوں سے لیکر مساجد کی نابودی تک کے کارنامے انکے سیاہ اعمال نامے میں درج ہیں ۔