ایکنا نیوز- مکتب اہل بیت قبول کرنے والا شیخ حمزه احمد موسی، شیخ زکزاکی کے مریدوں میں شمار ہوتا ہے اس وقت شیراز میں مہدویت علمی نشست میں شرکت کررہا ہے
انہوں نے نیوز ایجنسی سے گفتگو میں کہا کہ نایجیریا میں شیخ زکزاکی کی کوششوں سے مہدویت پر بہت کام ہوا ہے اور اس وقت ہر سال شعبان کے مہینے میں امام مهدی موعود(عج) کے بارے میں اول شعبان سے لیکر پندرہ شعبان تک پروگرامز منعقد کیے جاتے ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ پروگرامز میں اسپورٹس اور علمی مقابلے شامل ہیں اور ان دنوں میں شیخ زکزاکی ہر روز نماز ظہرین کے بعد عالم اسلام کے بارے میں جبکہ نماز مغربین کے بعد منتظران مهدی(عج) کی ذمہ داریوں پر خطاب کرتے ہیں ۔
احمد موسی نے کہا کہ پندرہ شعبان کے دن حسینیه بقیةالله(عج) میں بیس لاکھ لوگ جمع اور شیخ زکزاکی کا خطاب سنتے ہیں
انہوں نے کہا کہ ایرانی بسیج کی طرح نایجیریا میں سربازان امام زمان(عج) کے نام سے گروپ بنایا گیا ہے جو ان دنوں میں پروگرامز کے انعقاد میں پیش پیش ہوتا ہے
احمد موسی نے کہا کہ عاشورا کے بعد مهدویت کا عقیدہ نایجیریا میں دوسرا بڑا سلسلہ شمار ہوتا ہے اور ایام شعبان میں لوگ بیماروں کی عیادت ، مدد اور انکو خون فراہم کرتا ہے
شیخ زکزاکی کا زندہ رہنا معجزہ ہے
احمد موسی نے شیخ زکزاکی کے حوالے سے کہا کہ ان پر حملے کے بعد چالیس دن تک ہمیں انکے حوالے سے کوئی اطلاع نہ تھی اور کیی دن تک وہ بے ہوش رہے تھے اسی وجہ سے فوج اور بوکوحرام کے حامیوں نے انکے گھر اور مدرسے پر حملہ کرکے سب کچھ جلا دیا تھا کہ اب شیخ ختم ہوچکے ہیں اور شیعوں کا کام تمام ہوچکا ہے مگر پندرہ دن بعد اس کے باوجود کہ شیخ زکزاکی کو کئی گولیاں لگی تھیں اور انکے ہڈیاں ٹوٹی تھیں مگر ہسپتال نے معجزانہ طور پر کہا کہ انکی حالت بہتر ہے اور حکومت کو بھی لگا کہ یہ معجزہ ہی ہوسکتا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ بعد میں علما نے ان سے ملاقات کی مگو جو بھی گیا روتا ہوا واپس آیا کیونکہ انکی حالت بہت ناگفتہ تھی اور انکی بائیں آنکھ ضائع ہوچکی تھی۔
احمد موسی کا کہنا ہے کہ حکومت انتظار کررہی ہے کہ شیعوں کی جانب سے کوئی قدم اٹھے اور انکو بہانہ ملے اور ان پر حملہ شروع کرے مگر شیعہ امن سے رہ رہے ہیں اور ان ایام میں لوگ زیادہ تعداد میں در مکتب اہل بیت پر آرہے ہیں کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ یہ لوگ عوام کی کسقدر مدد کرتے ہیں اور پھر بھی ان پر ظلم کیا جاتا ہے۔