تکفیریت کے حامی ملکی اداروں میں گھسے بیٹھے ہیں، انہیں نکال باہر کرنا ہوگا

IQNA

تکفیریت کے حامی ملکی اداروں میں گھسے بیٹھے ہیں، انہیں نکال باہر کرنا ہوگا

14:09 - June 12, 2016
خبر کا کوڈ: 3500971
بین الاقوامی گروپ:پرامن شہریوں کو خوفزدہ رکھنے کیلئے دہشتگردوں کی باقاعدہ سرپرستی جاری ہے، علامہ ناصر عباس جعفری
تکفیریت کے حامی ملکی اداروں میں گھسے بیٹھے ہیں، انہیں نکال باہر کرنا ہوگا

ایکنا نیوز- اسلام ٹایمز سے گفتگو میں راجا ناصر کا کہنا تھا کہ ہمارا دشمن کیا چاہتا ہے ہم سے، یہی کہ ہم شہداء کو فراموش کر دیں۔ ہم نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ اگر اس تحریک کے لانگ ٹرم اہداف کو دیکھیں تو وہ وہی ہیں کہ امام زمانہ (ع) کے ظہور کی تیاری، زمینہ سازی۔ مڈٹرم اہداف میں قائد و اقبال کے پاکستان کو واپس لانا ہے، جو کہ تکفیریت کے ہاتھوں یرغمال ہوچکا ہے۔ یہ تحریک یہ جدوجہد طولانی جدوجہد ہے۔ یہ چند دن، چند ہفتے کی بات نہیں ہے۔ مسلسل میدان عمل میں رہ کر دشمن سے نبرد آزما رہنے کی تحریک ہے۔ جبکہ شارٹ ٹرم اہداف میں دشمن کو یعنی تکفیریت کو، ان کے ہمنواوں کو، ان کے سہولت کاروں کو بے نقاب کرنا ہے، ان کا تعاقب کرنا ہے۔ شارٹ ٹرم اہداف سو فیصد نہ سہی، ستر فیصد ہی سہی ہم نے حاصل کر لئے ہیں۔ جب سے ہم سڑکوں پر آئے ہیں۔ پورے پاکستان میں اندھی ٹارگٹ کلنگ کا سانحہ پیش نہیں آیا، حالانکہ ایک ایک دن میں ایک ہی شہر میں چار چار افراد کو شہید کیا جا رہا تھا۔ ہم نے اس تحریک کے ذریعے اتنا دباؤ ڈال دیا ہے کہ ہمارے پرامن اور جائز مطالبات پر غور کرنے پر مجبور ہیں۔ ہمارا دشمن ہمارے شہداء کو اور ان کی قربانیوں کو فراموش کرانا چاہتا ہے، ہم نے نہیں ہونے دیا۔ ہم نے شہداء کی مظلومیت کو دفن نہیں ہونے دیا۔ لوگوں میں اتنا شعور بیدار کر دیا ہے، اپنی پرامن جدوجہد سے کہ آج کوئی بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہاں میں تکفیریت کا حامی ہوں۔ ہمیں قائداعظم کا پاکستان چاہیئے۔ اس کے حصول کیلیے تکفیریت کے خلاف ایک طویل لڑائی لڑنی پڑے گی۔ تکفیریت کے حامی ملکی و ریاستی اداروں میں گھسے بیٹھے ہیں۔ ان سے پاکستان کو نجات دلانی ہے۔ پورے پاکستان میں اس مطالبے کو وائرل کرانا ہوگا۔ صرف شیعہ کو ہی نہیں بلکہ سنی، عیسائی سب کو اپنا تحفظ درکار ہے۔ موجودہ پاکستان قائد اور علامہ اقبال کا پاکستان نہیں ہے۔
نظرات بینندگان
captcha