
ایکنا نیوز- روزنامه «Chicago Tribune» کے مطابق ایک طرف فیس بک کے بانی مارک زاکربرگ نفرت اور تعصب سے مقابلے کی بات کررہا ہے مگر عملا فیس بک پر اسلام فوبیا کا اظھار کیا جارہا ہے۔
شیکاگو میں اسلامی کونسل کے سربراہ احمد رهاب کے پیج کو «ڈونالڈ ٹرامپ» پر تنقید کے جرم میں فیس بک پر بلاک کردیا جاتا ہے؟
زاکربرگ نے دسمبر ۲۰۱۵ میں امریکن مسلمانوں کی حمایت اور فیس بک پر انکے اعتماد کی بات کی تھی مگر اس اقدام سے اس موقف پر سوالیہ نشان لگا ہے۔
رهاب نے فیس بک پیچ پر ٹرامپ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف بیانات بند اور ہٹلر کی مانند افکار سے پرہیز کریں جسکے بعد اس کے پیج کو فیس بک پر بلاک کردیا گیا۔
اعتراض کے بعد اسکے پیج کو کھولا گیا مگر ٹرمپ پرایک اور اعتراض کے بعد دوبارہ اسکے پیج کو بلاک کیا گیا ہے حالانکہ امریکن قانون کے مطابق اعتراض اسکا حق بنتا ہے۔
فیس بک نے رہاب کے اعتراضات کو اجتماعی حوالے سے نامناسب قرار دیا ہے!
اب تک فیس بک انتظامیہ نے یہ نہیں بتایا کہ دوسرے لوگوں کے پیجزکیوں اعتراضات کے باوجود بلاک نہیں کیا جاتا؟
اکثر صفحات پر کھل کر اسلام کے خلاف پروپگینڈہ کیا جاتا ہے مگر فیس بک انتظامیہ اسپرمکمل خاموش ہے ۔
ایک طرف فیس بک مالک مسلمانوں کی حمایت کی بات کرتا ہے مگر عملا اسلامو فوبیا پر خاموش اور اسلام دشمنوں پر اعتراض کرنے والے پیجز بلاک کردیے جاتے ہیں !