
ایکنا نیوز- روزنامه اینڈیپنڈنٹ کے مطابق لاء اسٹوڈنٹ عقیله سندهو کو حجاب کی وجہ سے کام پر جانے سے روک دینے کے معاملے میں جنوبی جرمنی کی عدالت نے اسکے حق میں فیصلہ دے دیا ہے
عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ عقیله سندهو کو حجاب کی وجہ سے کام پر جانے سے روکنا کسی قانون میں درست نہیں مگر مقامی حکام کا ارادہ ہے کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کریں۔
لاء کی طالبہ عقیقه ایک عدالتی ادارے کو جوائن کرچکی ہے مگر اس کو حجاب کی وجہ سے کام کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا ہے۔
سندهو نے اس اعتراض کر رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعصبانہ پالیسی غیر منصفانہ ہے
سندهو کا کہنا ہے کہ شرم کا مقام ہے کہ صرف ظاہری طور پر اس کو حجاب میں دیکھ کر اسے کام کرنے کی صلاحیت سے محروم قرار دیا جارہا ہے۔