
ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «WB» کے مطابق یورپی پارلیمنٹ کے نمایندوں نے ایک غیر رسمی بیان میں برما کے مسلمانوں پر مظالم کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ میانمار کے صوبہ راخین میں مسلمانوں کے حوالے سے انسانی حقوق اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو آزاد تحیقات کی اجازت دی جائے۔
صوبہ راخین کے مسلمانوں کے سازش کے تحت مختلف علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور اس وقت بڑی تعداد میں یہ لوگ ۸۰ سے زائد کیمپوں میں بسر کرنے پر مجبور ہیں.
یورپی پارلیمنٹ کے نمایندوں نے مسلمانوں کی حالات پر تشویش کا اظھار کرتے ہوئے عالمی برادری سے ان کی مدد کا مطالبہ کیا ہے
بیان میں مظالم ، تعصب اور مذہب پر پابندی کے خاتمے کو بھی ضروری قرار دیا گیا ہے
اقوام متحدہ کے نمایندے خصوصی یانگی لی، نے راخین کے دورے پر مظالم کی خبروں کو درست قرار دیا تھا اور ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اگر صورت حال کو کنٹرول نہ کیا گیا تو انسانی المیہ واقع ہوسکتا ہے.
اقوام متحدہ نے «آنگ سان سو چی» کی حکومت سے صاف وشفاف تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا تھا
انسانی حقوق ادارےکے فعال رکن حزب حاکم آنگ سان سو چی کی حکومت کے بعد صورتحال بہتر ہونے کی توقع ظاہر کی جارہی تھی مگر حالات میں تبدیلی نہ آنے پر اب اسکی حکومت پر اعتراضات کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے.