
ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق متحدہ جہاد کونسل میں شامل جہادی تنظیموں کو پاکستان کی جانب سے تشکیل دیئے جانے کے بیانات کے حوالے سے سوال پر سید صلاح الدین کا کہنا تھا کہ 1947 سے آج تک سوا 5 لاکھ کشمیری ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں کوئی پاکستانی نہیں جبکہ حالیہ کشیدگی میں بھی ہلاک ہونے والوں میں کوئی پاکستانی نہیں، تو پاکستان کیسے ان تنظیموں کو تشکیل دے سکتا ہے، یہ عالمی طاقتوں کا ہندوستان اور اس کے سامراج کو بچانے کے لیے منفی پروپیگنڈا ہے۔
پاکستان کے کشمیر کے حوالے سے بیانات اور مذمتوں پر اعتراضات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، کشمیر کے لیے اس لیے بات کرتا ہے کیونکہ وہ مسئلہ کشمیر کا بنیادی فریق ہے اور اس بات کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاچکا ہے، جبکہ جو اعتراضات کر رہے ہیں وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی نفی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں کشمیر کے حوالے سے 18 قراردادیں منظور ہوچکی ہیں لیکن عملاً کچھ نہیں ہوا، جو عالمی طاقتوں کا دہرا معیار اور مجرمانہ خاموشی ہے۔
نجی ٹی وی ’آج نیوز‘ کے پروگرام میں انٹرویو کے دوران سید صلاح الدین کا کہنا تھا کہ جب ایک فریق مسئلے کو مسئلہ ماننے کے لیے ہی تیار نہیں اور اسے اپنا اندرونی معاملہ کہہ کر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتا ہے تو اس سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔
حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ برہان مظفر وانی کی ہلاکت نے کشمیر کی آزادی کی تحریک کو نئی طاقت بخشی ہے اور ہر ضلع میں نہتے عوام قابض ہندوستانی فوج کے خلاف صف آرا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فوج کی جانب سے گولیوں کے ساتھ چھروں کا استعمال کشمیریوں کو ناکارہ کرنے کی سازش ہے، لیکن اس کے باوجود کشمیر کی تحریک میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور ہم منزل سے ہمکنار ہونے کے لیے پرامید ہیں۔