ایکنا نیوز- ایکسپریس نیوز-بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست مدھیہ پردیش کے علاقے مندسور میں 2 مسلمان خواتین کے پاس مبینہ طور پر گائے کا گوشت ہونے کی اطلاع پر پولیس نے ریلوے اسٹیشن پر چھاپہ مار کر دونوں خواتین کو گرفتار کیا تو وہاں موجود ہندوؤں نے دونوں خواتین کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں خواتین کو تقریبا آدھے گھنٹے تک مکوں، لاتوں اور تھپڑوں کی بارش کرکے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب کہ اس دوران وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے انھیں چھڑانے کی بالکل بھی کوشش نہیں کی۔
بعد ازاں گوشت کو ٹیسٹ کے لئے لیبارٹری بھجوایا گیا تو معلوم ہوا کہ گوشت گائے کا نہیں بلکہ بھینس کا ہے تاہم اس کے باوجود تشدد کرنے والے کسی بھی شخص نہ تو گرفتار کیا گیا اورنہ ہی مقدمہ درج کیا گیا، یہی نہیں بھارتی پولیس نے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق خواتین پر بغیر پرمٹ کے گوشت فروخت کرنے کا مقدمہ درج کردیا۔