
ایکنا نیوز- نیوز ایجنسی «CPHPOST ONLINE» کے مطابق نامعلوم افراد نے مدرسے پر حملہ کرکے دیواروں اور دروازے پر توہین آمیز نعرے درج کیے اور مدرسے کے ملازمین اور اسٹاف کو ہراساں کرنے کی کوشش کی۔
اسکول کے ڈائریکٹر احمد دنیز نے کہا کہ یہ میرے کیریر کا سب سے برا واقعہ ہے جو میں نے دیکھا ہے
واقعے پر ڈنمارک اسلامی تنظیم (DIT) نے سیاست دانوں سے مطالبہ کیا کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بیانات کا سلسلہ بند کردیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ جب ایک مدرسے پر کھلم کھلا حملہ کیا جاتا ہے تو اس سے نفرت کی فضا کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔
پولیس پیتر هاسلوند کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ پیدا چلایا جاسکے کہ کیا یہ ایک مذاق ہے یا واقعا مدرسے پر حملے کی کوشش کی گئی ہے مگر ہم اس شدت پسندی کی اجازت نہیں دیں سکتے
ڈنمارک کی ساڑھے پانچ ملین آبادی میں ۱۶۰ هزار مسلمان شامل ہیں ۔