
ایکنا نیوز- پریس ٹی وی کے مطابق ایک طرف جہاں امریکہ میں نسل پرستی اور تعصب کی فضا قائم ہے وہاں لبنانی نژاد امریکن مسلمان خاتون «اَمَل شاموت» نے اسکارف کے ساتھ امریکن پولیس میں کام شروع کردیا ہے
شاموت نے پریس ٹی وی سے گفتگو میں کہا : «معاشرے میں کام اور معاشرے کی خدمت میرا اہم مقصد ہے اور میری خواہش ہے کہ امن کے قیام کے لیے پولیس بن کر کام کرسکوں»
شاموت نے اس سوال پر کہ کیا اسکارف کے ساتھ کام مشکل نہیں ، تو اس نے کہا کہ نہ صرف حجاب رکاوٹ نہیں بلکہ حجاب ایک نمونہ اور ماڈل بنے گی سب کے لیے۔
باحجاب پولیس خاتون کا کہنا ہے کہ مختلف ثقافت اور عقیدے کے لوگ یہاں بستے ہیں اور ہر ایک اپنی مرضی کے مطابق علم کرنا چاہتا ہے۔
ایک طرف جہاں بالٹمور، مریلینڈ، فرگوسن اور میسوری میں پولیس افیسران دوسری اقوام سے تعصب آمیز رویے کی وجہ سے اکثر پیشی پر بلائے جاتے ہیں وہی ڈیربرن دیگر اقوام سے حسن سلوک کے وجہ سے جانا جاتا ہے۔
ڈیربرن پولیس چیف رونالڈ حداد کا کہنا ہے: «ہم مکمل طور پر معاشرے کی خدمت میں حاضر ہیں سب کا برابر حق ہے اور ہر ایک کو احترام ملنا چاہیے اور سب خود کو معاشرے کا حصہ سمجھے اور انکا ہم پراعتماد بہت اہم ہے»
انہوں نے مزید کہا : «امل مسلمانوں اور ہمارا سب کی نمایندگی کرتی ہے اور حجاب کے ساتھ معاشرے کی خدمت میں مصروف عمل ہے.»
ڈیربرن پولیس مسلمان قیدی خواتین کو بھی اسکارف پہننے کی سہولت دیتی ہے اور اگر کوئی مہاجر پکڑا جائے اور انگریزی نہ جانتا ہو تو اسکے لیے مترجم کا بھی انتظام کرتی ہے۔
اسی وجہ سے ڈیر برن پولیس محکمے کو امریکی معاشرے میں ایک نمونہ سمجھا جاسکتا ہے۔