
ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «kowb»،کے مطابق کروڑوں لوگوں کی مقدس کتاب کو جلانے کی خبر اگر چہ کچھ لوگوں کو متوجہ کرگئی مگر اعلان شدہ پروگرام میں صرف پندرہ لوگ جمع ہوئے۔
جبکہ جیلٹ شہر ہی میں اس توہین آمیز مختصر پروگرام کے مقابلے میں بڑی تعداد میں اس پروگرام کے مخالفین جمع ہوئے
اسلام مخالف پروگرام کے انچارج«فرنک جورج» نے تکفیری گروپوں کو نشانہ بنانے کی بجائے تمام مسلمانوں اور اسلام کو نشانہ بنایا اور کہا کہ اسلام ایک پرامن دین نہیں بلکہ دہشت گردی کی ایک تنظیم ہے !
مظاہرے کی ناکامی کو دیکھر فرنک نے کہا کہ ہم اس ویڈیو کو اپ لوڈ کریں گے تاکہ دنیا کے مختلف لوگوں کی حمایت حاصل کرسکے۔
«لیزا هری» امریکن شہری کا کہنا ہے کہ ہم فرنک کے مظاہرے کے مقابلے میں جمع ہوئے ہیں تاکہ دنیا دیکھ لے کہ ان کے مخالف کسقدر موجود ہیں۔
هری نے فرنک گروہ کو اقلیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختصر تعداد میں افراد واویلا کررہے ہیں
ایک اور شہری تانیا کرومریچ نے قرآن سوزی مظاہرے کو نفرت انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نفرت پھیلانے والے گروپ کے خلاف ہم کھڑے ہیں۔