
ایکنا نیوز- روزنامہ امت کے مطابق معروف سلفی مبلغ ڈاکٹر ذاکرنائیک پر دہشت گردی کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس حوالے سے بھارت میں قانونی ماہرین سے مشاورت کا عمل شروع کیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مقدمہ کے علاوہ انکی تنظیم اسلامک ریسرچ فاونڈیشن اور تبلیغ پربھی پابندی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق کم از کم پچاس جوان ذاکر نائیک کی تقاریر سے متاثر ہوکر شدت پسند دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہوچکے ہیں جبکہ ڈھاکہ حملوں کا الزام بھی سعودی حامی شدت پسند مبلغ پر لگایا گیا ہے۔